السلام علیکم! میں آرمی میں ہوں، "ڈی ایس پی" نام سے فنڈ جمع کرتے ہیں جو جتنا جمع کروائے ، کوئی دس کوئی پندرہ، ہر ماہ اپنی تنخواہ سے جمع کرواتے ہیں، جب ایک لاکھ جمع ہوجائیں گے تو ہر سال ایک لاکھ کے اوپر 15 یا 20 ہزار ان پیسوں میں جمع ہوں گے، جتنے لاکھ ہوں گے اتنے پیسے ملیں گے، یہ جو اوپر والے پیسے ہیں یہ حلال ہے یا حرام؟
اگر مذکور ادارے کی طرف سے ڈی ایس پی فنڈ کی پالیسی لازمی اور جبری ہو ، تو ایسی صورت میں تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے ، پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے، شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں درحقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگرچہ سود یاکسی اور نام سے دی جائیں، لہٰذا سائل کے لیے اس کے لینے کی گنجائش ہے، تاہم اگر سائل کو یقین ہو کہ ادارہ یہ رقم سودی بینک میں رکھوا کر سودی رقم سے منافع دے رہا ہے، تو اس کے لینے سے احتیاط کرنا بہر حال بہترہے۔
البتہ اگر ادارے کی طرف سے یہ پالیسی لازمی نہ ہو ، اور ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے یہ پالیسی لیتا ہو ،تو پھر اس پر ملنے والی اضافی رقم کا تشبہ بالربا کی وجہ سے ملازم کے لیے لینا درست نہ ہوگا۔
کما فی البحرالرائق: (والاجرۃ لا تملک بالعقد) (إلی قولہ) (بل بالتعجیل أو بشرطہ أو بالاستیفاء أو بالتمکن) یعنی لا تملک الاجرۃ الا بواحد من ھذہ الاربعۃ والمراد انہ لا یستحقہا المؤجر الا بذالک اھ ((۷/۳۰۰)