بعض اوقات انسان کو قضاء حاجت کی سخت ضرورت ہوتی ہے، لیکن وہ اس کو روک کے نماز پڑھتا ہے، اس طرح پڑھی گئی نماز کا کیا حکم ہے؟ اگر جماعت نکلنے کا یا نماز قضاء ہونے کا ڈر ہو تو کیا کریں؟
جب قضاء حاجت کی سخت ضرورت ہو تو ایسی صورت میں نماز پڑھنا احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ممنوع ہے، اس لیے اس حالت میں نماز چاہے تنہا پڑھی جائے یا جماعت کے ساتھ فقہاء کرام نے اس کو مکروہ قرار دیاہے، اس لیے ایسی صورت میں پہلے قضاء حاجت سے فارغ ہونا چاہیے اس کے بعد اگر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع مل جائے تو جماعت میں شریک ہو جائے ورنہ اکیلے نماز ادا کرے ، البتہ اگر قضاء حاجت سےفارغ ہونے اور دوبارہ وضوء کرنے کی صورت میں نماز کا وقت نکلنے کی وجہ سے قضاء ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر اسی حالت میں نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔
كما في الدر: وكذا يكره غير المكتوبة عند ضيق الوقت الى قوله (وعند مدافعة الأخبثين) أو أحدهما أو الريح اهـ (ج 1 ص (378)
وفي الرد : تحت قوله (قوله وصلاته مع مدافعة الأخبثين إلخ) أي البول والغائط. قال في الخزائن: سواء كان بعد شروعه أو قبله، فإن شغله قطعها إن لم يخف فوت الوقت، وإن أتمها أثم لما رواه أبو داود «لا يحل لأحد يؤمن بالله واليوم الآخر أن يصلي وهو حاقن حتى يتخفف» ، أي مدافع البول، ومثله الحاقب: أي مدافع الغائط والحازق: أي مدافعهما وقيل مدافع الريح اهـ. وما ذكره من الإثم صرح به في شرح المنية وقال لأدائها مع الكراهة التحريمية. بقي ما إذا خشي فوت الجماعة ولا يجد جماعة غيرها، فهل يقطعها كما يقطعها إذا رأى على ثوبه نجاسة قدر الدرهم ليغسلها أو لا، كما إذا كانت النجاسة أقل من الدرهم. والصواب الأول، لأن ترك سنة الجماعة أولى من الإتيان بالكراهة: كالقطع لغسل قدر الدرهم فإنه واجب، ففعله أولى من فعل السنة، بخلاف غسل ما دونه فإنه مستحب فلا يترك السنة المؤكدة لأجله، كذا حققه في شرح المنية. 641/1
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0