محترم جناب مفتی صاحب! میرے بینک اکاؤنٹ میں 10,000 ڈالر رقم موجود ہے، جس پر بینک پانچ فیصد سود دیتا ہے، جبکہ میرے ایک دوست کو 4000 ڈالرچا ہیئے تھا ،جس پر بینک %12 سود دینا پڑتا ہے، تو اس صورت میں اگر میں بینک سے یہ کہوں کہ دوست کے 12 فیصد کو میرے ڈپازٹ کے سود کے عوض معاف کر دیا جائے ،تو شرعاً جائز ہے ؟
جی ہاں! اگر یہ دونوں اکاؤنٹ ایک ہی بینک کے ہوں، تو آپ ایسا کر سکتے ہیں ۔
كما في كفایت المفتی (۸/ ۷۱ ) -
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0