میں سعودیہ عربیہ میں رہتا ہوں، میری فیملی پاکستان منتقل ہوگئی، میں ایک نجی بینک یو،بی، ایل (Ubl) کو اپنی فیملی کے اخراجات بھیجنے کے لئے استعمال کرتا ہوں، اور میری بچت میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی ہے، میرا سوال یہ ہے کہ Ublبینک کے معاملات چونکہ سود پر مبنی ہیں ، تو بطور ذریعہ بغیر کسی سودی منافع کے اسے استعمال کرنا، اور چونکہ میزان بینک شریعہ اصولوں پر مبنی ہے، تو سعودی عرب کو چھوڑ کر وہاں میزان بینک جو کہ میرے اپنے ملک میں ہے،رقم رکھوانا،آپ میرے اس عمل کو شریعت کی روشنی میں کیسے دیکھتے ہیں؟
سائل کا فیملی اخراجات بھجنے کے لئے یو بی ایل (UBl) بینک کو بطور ذریعہ بغیر کسی سودی منافع حاصل کیے استعمال کرنا ،نیز سود سے بچنے کی خاطر یہاں اپنے ملک کے شریعہ بورڈ کی زیر نگرانی چلنے والے میزان بینک میں اپنی بچت رکھنا شرعاً درست وجائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، تاہم اس طرح کی ترسیلات کے لئے بھی میزان بینک کو استعمال کیا جائے،تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔
کما فی رد المحتار: (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة الخ (6/462)۔
و فی الدرالمختار: وكرهت السفتجة) بضم السين وتفتح وفتح التاء، وهي إقراض لسقوط خطر الطريق، فكأنه أحال الخطر المتوقع على المستقرض فكان في معنى الحوالة وقالوا: إذا لم تكن المنفعة مشروطة ولا متعارفة فلا بأس.الخ (5/350)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0