میں راولپنڈی میں رہائش پذیر ہوں ، رواج یہ ہے کہ جب کوئی شیعہ فوت ہو جاتا ہے تو اہلِ سنت کا امام ، اہلِ سنت کے لوگوں کو ، اہلِ سنت کے طریقہ کے مطابق نمازِ جنازہ پڑھاتا ہے؟ پھر اسی میت کا , شیعہ حضرات شیعہ امام کے پیچھے اپنے طریقے کے مطابق جنازہ ادا کرتے ہیں ؟ میرا سوال یہ ہے کہ اہلِ سنت , شیعہ میت کا جنازہ اہلِ سنت کے طریقے سے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب سے مطلع فرمائیں- والسلام
جو شیعہ فرقہ اثنا عشریہ سے تعلق رکھتا ہو یا وہ مخالفِ قرآن صریح کوئی کفریہ عقیدہ رکھتا ہو ،مثلاً قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہو یا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کا قائل ہو یا حضرت صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت کا قائل نہ ہو یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگنے والی تہمت کو درست مانتا ہو وغیرہ , تو ایسا شیعہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، ایسے شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھانا بھی جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ جس شیعہ کے ایسے کفریہ عقائد نہ ہوں، وہ فقط بدعات و رسومات کا مرتکب ہو یا حضرت علی ؓ کو دیگر صحابہ پر فوقیت دیتا ہو تو ایسا شخص کافر نہیں، ایسے شخص کا جنازہ پڑھانا جائز ہے، لیکن ایک دفعہ میت کے اولیاء کی موجودگی میں نمازِ جنازہ ادا کر نے کے بعد دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا ،چونکہ ثابت نہیں، اس لۓ دو دو بار نمازِ جنازہ پڑھنے سے احتراز کرنا لازم ہے۔
كما في أحكام القرآن للجصاص : قوله تعالى "و لا تصل على أحد منهم مات أبدا و لا تقم على قبره" فيه الدلالة على معان أحدها فعل الصلاة على موتى المسلمين و حظرها على موتى الكفار و يدل أيضا على القيام على القبر إلى أن يدفن و على أن النبي صلى الله عليه و سلم قد كان يفعله اھ (4/ 351)-
و في بدائع الصنائع : و أصل الاختلاف في كتابية تحت مسلم حبلت ثم ماتت و في بطنها ولد مسلم لا يصلى عليها بالإجماع ؛ لأن الصلاة على الكافرة غير مشروعة اھ (1/ 303)-
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله : و اختلف في الصلاة عليهم) فقيل لا يصلي لأن ترك الصلاة على المسلم مشروع في الجملة كالبغاة و قطاع الطريق فكان أولى من الصلاة على الكافر لأنها غير مشروعة {و لا تصل على أحد منهم مات أبدا} [التوبة: 84] اھ (2/ 201)-