2004 میں حج کے دوران پریشانی کی حالت میں میں نے مذکور جملے کہے ' مجھے نماز پڑھنے کا دل نہیں چاہتا، مجھے گھر جانا ہے، میں مزید برداشت نہیں کرسکتا" ظاہر ہے ان الفاظ سے میرا ارادہ اسلام یا کسی اور فرائض سے انکار کرنا نہیں تھا، ان علماء کرام نے یہ فتوٰی دیا ہے کہ ان الفاظ سے نہ کوئی کافر ہوتا ہے اور نہ نکاح ٹوٹتا ہے: مفتی ابراھیم ڈیسانی( جنوبی افریقہ) ، دار العلوم دیوبند، جامعۃ العلماء(جنوبی افریقہ) مفتی محمد ابن ادم (یوکے) شیخ ریاض الحق (یوکے)۔
جبکہ مجلس العلماء (جنوبی افریقہ ) نے یہ فتوی دیا ہے کہ ان الفاظ سے کفر ہو گیا، اور نکاح بھی ٹوٹ گیا ، میری بیوی نے تجدید نکاح سے انکار کردیا یہ کہتے ہوئے کہ مجھے اکثریت کو دیکھنا ہے، کیا شریعت میں کثرت قول کی کوئی حیثیت ہے؟
مذکور کلمات سے اگر واقعۃً سائل کا ارادہ کسی فرض کا انکار یا اسلام سے بیزاری کا نہیں تھاتو یہ موجب کفر نہیں، اور نہ ہی محض ان کلمات کی وجہ سے ان کے نکاح پر کچھ اثر پڑا ہے،تاہم اس سے اہانت بیت اللہ وفرائض کا وہم ضرور پیدا ہوتا ہے، اس لئے اس پر توبہ واستغفار چاہیئے، اور آئندہ کے لئے اس قسم کے الفاظ دہرانے سے احتراز بھی چاہیئے، اور اگر مجلس العلماء جنوبی افریقہ سے جاری ہونے والے فتوی کی کاپی ایک میل کردی جائے تو اس پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔
کما فی اللباب فی شرح الکتاب: للأكثر حكم الكل في كثير من الأحكام الخ (ج2 صـ212، ط: المکتب العلمیۃ بیروت)۔
واللہ اعلم بالصواب
جس دکان میں گانے، فلمیں وغیرہ ڈاؤن ہوتی ہوں اس کا نام ’’مدینہ موبائل کمیونکیشن‘‘ رکھنا
یونیکوڈ آداب حرمین 0