میرا سوال یہ ہے کہ ہم سردیوں کے موسم میں مسجدِ نبوی میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے ، میرا 4/5 سال کا بچہ بھی میرے ساتھ تھا ، نماز کے دوران وہ اپنے پیشاب پر قابو نہ رکھ سکا ا ور اس نے اپنا پیشاب چھوڑ دیا ، نماز میں اس نے مجھے یہ اطلاع دی اور میں نے اچانک چونک کر نماز توڑ دی اور اسے اپنے جسم پر اٹھا لیا (پیشاب کے باقی قطرے فرش پر گرنے سے بچانے کے لئے) اور سیدھا واش روم کی طرف بھاگا ، ہو سکتا ہے کہ میں نے گیٹ کے باہر خادم کو اطلاع دی ہو یا میں بتانا بھول گیا ہوں (یاد نہیں) ، میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ عمل میرے لیے قابلِ سزا ہے یا اس فعل کا کوئی کفارہ ہے؟ میں بہت پریشان ہوں کہ یہ فجر کی جماعت میں مسجدِ نبوی میں ہوا ، براہِ کرم میری رہنمائی کریں۔ جزاکم اللہ
سائل کے بچے کا مسجدِ نبوی ﷺ میں پیشاب کرنے سے اگرچہ کوئی کفارہ وغیرہ لازم نہیں آیا، لیکن بچہ کے پیشاب کرنے کے بعد سائل کے لئے موقع پر موجود انتظامیہ کو مطلع کرنا یا پھر از خود اس جگہ کی صفائی کرنا ضروری تھا ، تاہم وہاں عمومی طور پر چونکہ صفائی ستھرائی کا اہتمام ہوتا ہے ، اس لئے غالب گمان کے مطابق سائل کے اطلاع نہ دینے کے باوجود بھی اس کی صفائی ہوچکی ہوگی ، البتہ آئندہ کے لئے کسی بھی مسجد میں بچے کو لے جاتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے ، تاکہ مسجد کی بے ادبی سے بچا جا سکے ۔
جس دکان میں گانے، فلمیں وغیرہ ڈاؤن ہوتی ہوں اس کا نام ’’مدینہ موبائل کمیونکیشن‘‘ رکھنا
یونیکوڈ آداب حرمین 0