میری شادی کو 3.5 سال ہوئے ہیں، ایک بیٹی 2.5 سال کی ہے، اور اس وقت میں حاملہ ہوں، آٹھ مہینے ہوئے کہ شوہر نے ایک مرشد بنا لیا ہے، پنڈی میں ہوتا ہےوہ آدمی، مخدوم جاوید چشتی صابری نام ہے اسکا، مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میرے شوہر انکو اور انکی ہی مانتے ہیں، میرے شوہر نے ہنستے ہنستے مجھے دو تین باتیں کیں، وہ کچھ یوں ہیں: 1- لوگوں کا حال برا ہوجاتا ہے اللہ تعالٰی گرمیوں میں روزے رکھواتا ہے۔2- ہنستے ہوئے مجھ سے کہا کہ اپنے مرشد کی تصویر جو انہوں نے گھر کے اندر لگائی ہوئی ہےان سے مانگو یہ جنت میں جانے کے لئے بخشش کروائیں گے، 10 جون ، 2020 کو انہوں نے مجھے گالیاں دیں، اور گھر سے چلے گئے، آگے میری دو بچیوں کا ساتھ ہوگا، میں بہت پریشان ہوں، کہ وہ کیسے راہ راست پر آئیں گے، اور بیٹیوں کو لیکر میں کیسے آگے زندگی گزاروں گی، انکو سمجھائیں تو کیسے؟ وہ چار سال پہلے نماز روزہ سب کرتے تھے، فیصل مسجد میں جماعت بھی کروائی ہے انہوں نے، جب سے یہ مرشد بنا لیا ہے سب کو چھوڑنے پر راضی ہے، کہتے ہیں مرشد نہیں چھوڑوں گا، میرے شوہر کو انکے مرشد نے داڑھی صاف کرنے کا کہا تو انہوں نے وہ بھی صاف کردی ہے، اب آپ بتائیں کیا ان سے میرا نکاح باقی ہے؟
سائلہ کے شوہر کی مذکور باتیں بظاہر خطرناک ہیں، تاہم اگر اس سے شریعت کے احکام سے انکار یا تخفیف مراد نہ ہو، بلکہ گرمیوں کے روزوں میں تکلیف کا بیان کرنا مراد ہو، اور ان سے مانگو ۔۔ الخ اس سے سفارش مراد ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کے شوہر ان کلمات کی وجہ سے کافر نہیں ہوئے، اور نہ ہی نکاح پر کوئی اثر پڑا ہے، مگر یہ الفاظ گمراہانہ ضرور ہیں، اس طرح کے الفاظ سے آئندہ احتیاط کی ضرورت ہے، جبکہ سائلہ کے بیان کے مطابق اس کے شوہر کے مرشد گمراہ اور ان کا عمل خلاف شریعت و خلاف سنت معلوم ہوتا ہے، اس لئے سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ کسی متبع سنت پیر و مرشد کا دامن پکڑے تاکہ اخروی نجات حاصل ہوسکے۔
کما قال اللہ تعالٰی: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (186) سورۃ البقرۃ)۔
وقال ایضاً: وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ (5) سورۃ الاحقاف)۔
وفی الشامیۃ: وقال وما زاد يقص وفي شرح الشيخ إسماعيل لا بأس بأن يقبض على لحيته، فإذا زاد على قبضته شيء جزه كما في المنية، وهو سنة كما في المبتغى وفي المجتبى والينابيع وغيرهما لا بأس بأخذ أطراف اللحية إذا طالت ولا بنتف الشيب إلا على وجه التزين ولا بالأخذ من حاجبه وشعر وجهه ما لم يشبه فعل المخنثين ولا يلحق شعر حلقه وعن أبي يوسف لا بأس به. اهـ. مطلب في الأخذ من اللحية (قوله: وأما الأخذ منها إلخ) بهذا وفق في الفتح بين ما مر وبين ما في الصحيحين عن ابن عمر عنه - صلى الله عليه وسلم - «أحفوا الشوارب واعفوا اللحية» قال: لأنه صح عن ابن عمر راوي هذا الحديث أنه كان يأخذ الفاضل عن القبضة، فإن لم يحمل على النسخ كما هو أصلنا في عمل الراوي على خلاف مرويه مع أنه روي عن غير الراوي وعن النبي - صلى الله عليه وسلم - يحمل الإعفاء على إعفائها عن أن يأخذ غالبها أو كلها كما هو فعل مجوس الأعاجم من حلق لحاهم، ويؤيده ما في مسلم عن أبي هريرة عنه - صلى الله عليه وسلم - «جزوا الشوارب واعفوا اللحى خالفوا المجوس» فهذه الجملة واقعة موقع التعليل، وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد اهـ ملخصا الخ (ج2 صـ418، ط: دار الفکر)۔
وفی شرح العقائد النسفیۃ: ولو تمنی ان لایکون الخمر حراما او لا یکون صوم رمضان فرضا لما یشق علیہ لایکفر، بخلاف ماذا تمنی ان لا یحرم الزنا وقتل النفس بغیر حق فانہ کفر، لان حرمۃ ھذہ الاشیاء ثابتۃ فی جمیع الادیان، موافقۃ للحکمۃ، ومن اراد الخروج عن الحکمۃ فقد اراد ان یحکم اللہ بما لیس بحکمۃ، وھذا جہل منہ الخ (صـ339)۔
عوث اعظم، دستگیر، داتا گنج بخش، غریب نواز اور مشکل کشا جیسے الفاظ کا مفہوم اور استعمال کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 1غیر اللہ کو اوّل وآخر اور ظاہر وباطن سمجھنا- "دجال مارے گا، زندہ کرے گا "کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0حضور نبی اکرمﷺ کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ - نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0دوران بحث قادیانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی دلیل طلب کرنے کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0