کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل ایک کمپنی ہے جس کا نام ریناٹس ہے اس کمپنی نے ایک دوائی بنائی ہے کمپنی کا طریقہ کار یہ ہے کہ کمپنی جوائن ہونے پر کچھ کم کر کے دوائی فروخت کرتی ہے ، پھر دو ممبر بنانے کے بعد کمپنی کچھ کمیشن دیتی ہے پھر وہ ممبر دوسروں کو ممبر بناتے ہیں اور ان کے خریدنے پر کمپنی پہلے والے ممبر کو بھی کچھ کمیشن دیتی ہے کیا جائز ہے یا نہیں ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
مذکور کمپنی کی طرح دیگر بہت سی کمپنیاں جو کہ کم قیمت کی چیزیں مہنگے دام فروخت کرتی ہیں، اور ساتھ ساتھ آگے ممبر بنانے پر کمیشن دینے کی بھی پیشکش کرتی ہیں، اور لوگ لالچ میں آکر کم قیمت کی چیزیں مہنگے داموں خریدتے اور ممبر سازی کرتے ہیں، اس کے طریقے کار میں قمار، جوئے اور بہت سی شرعی خرابیاں شامل ہیں،اس لئے اس میں شرکت کرنا جائز نہیں، مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں۔
کما فی المبسوط للسرخسی: وإن قال بع المتاع ولك الدرهم، أو اشتر لي هذا المتاع ولك الدرهم ففعل فله أجر مثله ولا يجاوز به ما سمى؛ لأنه استأجره للعمل الذي سماه بدرهم، فإن جواب الأمر بحرف الواو كجواب الشرط بحرف الفاء الخ (15/115)۔
و فیہ ایضاً: والسمسار اسم لمن يعمل للغير بالأجر بيعا وشراء ومقصوده من إيراد الحديث بيان جواز ذلك؛ ولهذا بين في الباب طريق الجواز،(15/115)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص،الخ (6/403)۔