باسمہ تعالی
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ سے متعلق کہ چند افراد نے ایک کمیٹی بنائی ہے۔ کہ کمیٹی کے افراد 3000 روپے تین سو آدمیوں سے ماہانہ تین سال تک لیں گے اور ہر ماہ قرعہ اندازی کرکے ایک موٹر سائیکل دیں گے، لہذا جس آدمی کے نام قرعہ پہلے ماہ میں نکل آیا تو اسے موٹر سائیکل گویا 3000 روپے میں پڑا اور جس کا قرعہ دوسرے ماہ میں نکل آیا تو اسے 8000 میں پڑا۔ یہ ترتیب ہر ماہ اسی طرح تین سال تک چلے گی اور جس کا موٹر سائیکل نکل آیا وہ بعد میں پیسے جمع نہیں کرائے گا اگر تین سال تک کسی کے نام قرعہ نہیں نکلا تو اسے اپنے جمع کردہ پیسے لینے کا اختیار نہیں ہوگا اور اگر کوئی آدمی دوران سال اس ترتیب سے نکل جائے تو نکل سکتا ہے لیکن اسے اپنے جمع کردہ پیسے واپس نہیں ملیں گے، کیا مذکورہ صورت میں اس ترتیب سے موٹر سائیکل حاصل کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ۔ مہر بانی فرما کر مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
سوال میں مذکور شرائطِ فاسدہ کی بناء پر یہ معاملہ شرعاً ناجائز و حرام ہے اور اس سے احتراز لازم ہے ۔
قال اللہ تعالی: یاایھا الذین آمنوا لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم۔(النساء:29)۔
وفی سنن الدار قطنی: عن انس بن مالك ان رسول اللہ ﷺ قال: لایحل مال امری مسلم الا بطیب نفس منہ(3/424)۔