کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مذکور (PrPal Online Earnung Company) کاروبار سود میں تو نہیں آتا؟
کمپنی کے تعارف طریقہ کاروبار کی تفصیل کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے، کہ کمپنی کا اصل کاروبار جس کے لئے وہ لوگوں کو ممبر بننے کی دعوت دیتی ہے، ایڈز دیکھ کر کمائی کرنا ہے (چاہے ممبرشپ انویسٹمنٹ میں ہو یا نیٹ ورک مارکیٹنگ میں ہو) جس میں شرعی اعتبار سے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں، ایڈز دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جاسکے، اور ایڈز دیکھنے والے ممبر کو اس پر اجرت کا مستحق ٹھہرایا جاسکے، بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پر بھی مشتمل ہوتے ہیں، مصنوعی طریقہ سے ویوز کی تعداد کو بڑھا کر دکھا یا جاتا ہے جو کہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے، مذکور کمپنی کے ساتھ کاروبار کی خرابی اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جب اس میں نیٹ ورک مارکیٹنگ بھی پائی جاتی ہو، لہذا خود اس کمپنی کا ممبر بننا اور کسی دوسرے کو اس کا ممبر بننے کی دعوت دینا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجئ الخ (6/4)
و فی ردالمحتار: (قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل. الخ (6/4)۔
و فی بدائع الصنائع: (ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح. الخ (6/59)۔