السلام علیکم! حضرت ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ میری ایک مہینہ پہلے منگنی ہوئی ہے،اس کے بعد مجھے اس لڑکی (لڑکی عالمہ ہے) نے میسج کیا،نام وغیرہ پوچھا تو پتا چلا کہ یہ معاملہ ہے،میں نے اسے کہا بھی کہ کیا پتا ہمارا رابطہ کرنا جائز بھی ہے کہ نہیں؟ اس نے کہا کہ جائز ہے،کال پر جائز نہیں ہے،میں نے گھر والوں کو بھی یہ بات بتادی،گھر والوں نے کہا کہ بہت مشکل سے رشتہ ہوا ہے،اسے اب رابطہ ختم کرکے ناراض نہ کردینا،لڑکی میری پھوپھی زاد ہےمیری شادی اس عیدالفطر کے بعد طے ہے،اب میں کیا اس کے ساتھ رابطہ رکھ سکتا ہوں؟ اگر نہیں تو اس کا حل بتادیں۔
سائل کے لیے اپنی منگیتر سے میسج پر بھی غیر ضروری بات کرنا درست نہیں،بلکہ سائل کو چاہیے کہ نکاح ہوجانے سے قبل اپنی منگیتر کے ساتھ غیر ضروری بات کرنے سے اجتناب کرے۔
قال اللہ تعالی: {فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ} [الأحزاب: 32]۔
وفی أحكام القرآن للجصاص: فيه أن لا تلين القول للرجال على وجه يوجب الطمع فيهن من أهل الريبة وفيه الدلالة على أن ذلك حكم سائر النساء في نهيهن عن إلانة القول للرجال على وجه يوجب الطمع فيهن ويستدل به على رغبتهن فيهم(5/ 229 ط: بیروت)۔
وفی الدر المختار: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى،
وفی رد المحتار تحت: (قوله وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزا بل شابة لا يشمتها، ولا يرد السلام بلسانه الخ(ج6 ص369 کتاب الحظر والاباحۃ ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: وينبغي أن لا يجوز إنشاده عند من غلب عليه الهوى والشهوة لأنه يهيجه على إجالة فكره فيمن لا يحل، وما كان سببا لمحظور فهو محظور اهـ.(ج6 ص350 کتاب الحظر والاباحۃ ط: سعید)۔