کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے کہ ایک آدمی (زید) ہے جس کی عمر سولہ 16 سال ہے اور اس نے کہا کہ ’’ اگر میں نے اس عورت ( صندل) سے شادی کی تو اس کو تین طلاق‘‘ ، کیا اس آدمی ( زید) کا اس عورت ( صندل) سے شادی کرنے کے بعدطلاق واقع ہو جائے گی؟ اورکتنی طلاق واقع ہوگی، اگر طلاق واقع نہیں ہوتی تو اس طلاق کا کیا حکم ہوگا؟
زید کے مذکور الفاظ " اگر میں نے۔۔۔۔الخ“سے تعلیق طلاق منعقد ہو چکی ہے، لہذا زید اگر مذکور لڑکی سے شادی کرے گا، تو مذکور لڑکی پرمعلق تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو جائے گی ۔
کمافی الھندیة:إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق اھ(1/ 420)
وفی الھدایة: " وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح اھ (1/ 243)
وفی البحرالرائق: (قوله: طلق غير المدخول بها ثلاثا وقعن) سواء قال أوقعت عليك ثلاث تطليقات أو أنت طالق ثلاثااھ(3 /314)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0