میری شوہر سے کسی بات پے لڑائی چل رہی تھی ،انہوں کہا کہ "آج کے بعد مجھ سے سید ھی منہ بات کرنا ورنہ خود کوفارغ سمجھو " اس کے بعد کئی مرتبہ میں نے صحیح طرح بات نہیں کی توکیا ایک طلاق واقع ہوئی یاتین طلاق ؟
سائلہ کے شوہر کے مذکور الفاظ "آج کے بعد مجھ سے سیدھی منہ بات کرنا ورنہ خود کو فارغ سمجھو " سے تعلیقِ طلاق نہیں ہوئی , لہذا اگر سائلہ اپنے شوہر کیساتھ تلخ کلامی کرے تو اس کی وجہ سے اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی , تاہم سائلہ کے شوہر کوچاہیئے کہ آئندہ اس نوعیت کے جملے استعمال کرنے میں احتیاط سے کام لے اور سائلہ پر بھی لازم ہے کہ شوہر کی بےاحترامی سے احتراز کرے -
فی الھندیۃ : امرأة قالت لزوجها : " مرا طلاق ده " فقال الزوج " داده كير و كرده كير " أو قال " داده باد و كرده باد "ان نوى يقع و يكون رجعيا و إن لم ينو لا يقع و لو قال "داده است أو كرده است" يقع نوى أو لم ينو و لا يصدق في ترك النية قضاء و لو قال "داده إنكار أو كرده إنكار لا يقع و إن نوى اھ(1/380)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0