کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ مظہر علی نے اپنی بیگم کو والدین کے گھر جانے سے منع کیا اور میں نے کہا کہ اگر تم ماں باپ کے گھر گئی تو میری طرف سے فارغ ہو ،اس کے باوجود وہ ماں پاب کے گھر چلی گئی ہے ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟اگر ہوئی ہے تو ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟میری نیت نہیں تھی طلاق کی، لیکن یہ جملہ لڑائی جھگڑے کے دوران بولا تھا ۔
واضح ہو کہ "فارغ" کا لفظ عندالقرینہ طلاقِ صریح بائن کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اس لیے مذاکرہ یا جھگڑےکے وقت ، ان الفاظ کے بولنے سے ، بلانیت بھی طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "اگر تم ماں باپ کے گھر گئی تو میری طرف سے فارغ ہو "کہہ دئے تو اس سے بیوی پر ایک طلاق بائن معلق ہو چکی تھی ، چنانچہ اس تعلیق کے بعد بیوی والدین کے گھر چلی گئی تو اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہو چکاہے ، اب سائل کے لئے تجدید نکاح کے بغیر بیوی کے ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے اور بیوی عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کر نے میں بھی آزاد ہے ، تاہم اگر باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو باقاعدہ شرعی گواہان کی موجود گی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب وقبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ آئندہ کے لئے سائل کے پاس فقط دو/2 طلاقوں کا اختیار ہو گا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے
کما فی الفتاوی الھندیۃ : الفصل الخامس في الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة ثم الكنايات ثلاثة أقسام ما يصلح جوابا لا غير ،أمرك بيدك اختاري اعتدي و ما يصلح جوابا و ردا لا غير اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري و ما يصلح جوابا و شتما خلية برية بتة بتلة بائن حرام( ج: 1، ص: 384،385)۔
و فی الدرالمختار"الكنايات ( لاتطلق بها )قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) و هي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب."( ج3 ص294 )۔
وفی الھندیۃ: وفی الھندیۃ:واذا أضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاًمثل أن یقول کامرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ (کتاب الطلاق الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ج1 ص488 ط:ماجدیہ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0