السلام علیکم! زید کہتا ہے کہ اب جہاد کی بات کرنا امت میں فساد پھیلانا ہے، اب جہاد نہیں ہے۔
واضح ہوکہ قرآنِ کریم اور کئی احادیثِ مبارکہ میں جہاد کی فضیلت اور فرضیت بیان ہوئی ہے، اور ایک حدیث پاک میں باقاعدہ طور پر جہاد کے قیامت تک جاری رہنے کا بتلایا گیا ہے، لہذا بحالتِ موجودہ جہاں جہاں پر کافروں اور مشرکوں نے مسلمانوں پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے، اور وہاں کی حکومت مسلمانوں کو مذہبی آزادی نہیں دے رہی ، بلکہ ان کے مذہبی اور دینی شعار مٹانے پر تلی ہوئی ہے ، تو مسلمانوں کیلئے اپنا دفاع کرتے ہوئے فریضہ جہاد کی ادائیگی کرنا لازم ہے، لہذا زید کا مطلقاً جہاد کی بات کو فساد کہہ کر رد کردینا درست نہیں، بلکہ ایک فریضہ کا انکار ہے، جس پر توبہ واستغفار لازم ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیة: وعامة المشايخ رحمهم الله تعالى قالوا الجهاد فرض على كل حال غير أنه قبل النفير فرض كفاية وبعد النفير فرض عين وهو الصحيح، ومعنى النفير أن يخبر أهل مدينة أن العدو قد جاء يريد أنفسكم وذراريكم وأموالكم فإذا أخبروا على هذا الوجه افترض على كل من قدر على الجهاد من أهل تلك البلدة أن يخرج للجهاد وقبل هذا الخبر كانوا في سعة من أن يخرجوا، ثم بعد مجيء النفير العام لا يفترض الجهاد على جميع أهل الإسلام شرقا وغربا فرض عين وإن بلغهم النفير، وإنما يفرض فرض عين على من كان يقرب من العدو، وهم يقدرون على الجهاد.
أما على من وراءهم ممن يبعد من العدو، فإنه يفترض فرض كفاية لا فرض عين حتى يسعهم تركه، فإذا احتيج إليهم بأن عجز من كان يقرب من العدو عن المقاومة مع العدو أو تكاسلوا، ولم يجاهدوا، فإنه يفترض على من يليهم فرض عين ثم وثم إلى أن يفرض على جميع أهل الأرض شرقا وغربا على هذا الترتيب اھ (2/188)۔