سوال یہ ہے کہ ایک واقعہ تبلیغی جماعت کے حضرات سے سنا، کہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ سب سے اچھا گھر کس کا ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ میرا ہے، کیونکہ میرے گھر میں آپ ہیں، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا نہیں، بلکہ اس کا گھر سب سے اچھا ہے، جس کے گھر سے کوئی شخص اللہ کے راستے میں نکلا ہوا ہو، کیونکہ اس گھر میں اللہ خود موجود ہوتے ہیں، تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ کہیں سے ثابت ہے اور اگر نہیں ہے تو ایسے بیان کرنے والے کا کیا حکم ہے؟ کیا اس کو تجدید ایمان ضروری ہے؟ جواب دے کر شکریہ کا موقع عطا کریں۔ جزاکم اللہ
تلاشِ بسیار کے باوجود مذکور مضمون پر مشتمل کوئی واقعہ، احادیث مبارکہ کی کسی معتبر کتاب میں نہیں ملا، لہٰذا بلا تحقیق ایسے واقعات نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنے سے اجتناب لازم ہے، تاہم لاعلمی کی بناء پر اس واقعے کو بیان کرنے کی وجہ سے بیان کرنے والے کے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔۔۔۔۔۔۔واللہ اعلم بالصواب
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کا ایک فقیر کی مدد کرنے والے واقعہ کی تحقیق
یونیکوڈ من گھڑت احادیث 0