طوافِ زیارت کے وقت اگر وضو مشکوک ہو ، تو کیا بعد میں اس ارادے کے بغیر کئے گئے طواف سے صحیح ہوجائے گا؟
سائل نے وضو کے مشکوک ہونے کے متعلق تفصیل ذکر نہیں کی ، تاہم سائل نے طوافِ زیارت سے قبل اگر وضو کر لیا تھا اور یہ بات سائل کو یقینی طور پر یاد تھی ، لیکن پھر وضو کا باقی رہنا اور نہ رہنا مشکوک ہو گیا تھا اور اس دوران سائل نے طواف ادا کر لیا تھا ، تو ایسی صورت میں سائل کا طواف درست ادا ہو چکا ہے ، لہذا اب سائل کے ذمہ کوئی دم لازم نہیں ، البتہ اگر سوچ و بچار سے معلوم ہو جائے کہ سائل نے واقعۃً بغیر وضو کے طواف زیارت کر لیا ہے، تو اس کا اعادہ لازم تھا ، لیکن اس کے بعد ایامِ نحر میں با وضو ہو کر طواف کرنے کی صورت میں اعادہ بھی ہو چکا ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیة : كل طواف وجد في وقته يكون عنه و إن نواه تطوعا أو عن غيره فالمحرم بحجة إذا قدم مكة و طاف بها تطوعا كان للقدوم و إن كان محرما بالعمرة فطوافه يكون للعمرة و إن كان قارنا فطوافه أولا للعمرة ثم للحج و كذا لو طاف وقت طواف الزيارة كان للزيارة و إن لم ينو الطواف لذلك اھ (1/236)۔
و فیه ایضاً : و لو طاف طواف الزيارة محدثا فعليه شاة و إن كان جنبا فعليه بدنة و كذا لو طاف أكثره جنبا أو محدثا و الأفضل أن يعيد الطواف ما دام بمكة و لا ذبح عليه و الأصح أن يعيد في الحدث ندبا و في الجنابة وجوبا ثم إن أعاده و قد طاف محدثا لا دم عليه و إن أعاده بعد أيام النحر و إن أعاده و قد طاف جنبا في أيام النحر لا شيء عليه و إن أعاده بعد أيام النحر يجب الدم عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - بالتأخير كذا في الكافي و تسقط عنه البدنة كذا في السراج الوهاج اھ(1/245)۔