جعل سازی

جعلی ڈگری پر ملی ہوئی ملازمت کی تنخواہ کا حکم

فتوی نمبر :
47434
| تاریخ :
2021-09-22
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / جعل سازی

جعلی ڈگری پر ملی ہوئی ملازمت کی تنخواہ کا حکم

میں2006 سے میڈیسن فیلڈ سے وابستہ ہوں، میری ڈگری جعلی ہے، مختلف کمپنی میں کام کا تجربہ اور مہارت کی وجہ سے ترقی بھی ہوتی رہی، کیا یہ کمائی جائز ہے؟ ۲۔ اگر ڈاکٹر کو پیسے بطور رشوت دینے میں میرا عمل دخل ہو تو کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے اگر دھوکہ دہی اور جعلسازی کی وجہ سے غیر قانونی طور پر جعلی ڈگری حاصل کی ہو تو اس کی وجہ سے اگرچہ سائل گناہ گار ہو چکا ہے، جس پر سائل کو بصدق دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے جعلسازی سے مکمل اجتناب لازم ہے، تاہم اس ڈگری کی وجہ سے سائل نے کسی ادارے میں ملازمت اختیار کر لی ہو، اور سائل کے اندر مذکور ملازمت کی اہلیت اور استعداد موجود ہو اور دورانِ ملازمت سائل مفوّضہ امور کی انجام دہی بھی پوری دیانت داری کے ساتھ کرتا ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے لیے اس ملازمت سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز اور درست ہوگا۔ جبکہ سائل کا ڈاکٹروں کو بطورِ رشوت پیسے دے کر اپنے مطالبات پورے کرنا بھی شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: {وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَان} [المائدة: 2]
وفی صحيح مسلم: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليك السمع والطاعة في عسرك ويسرك، ومنشطك ومكرهك، وأثرة عليك»(3/ 1467)
وفی سنن أبي داود: عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»(3/ 300)
وفی الترغیب والترھیب: من غشنا فلیس منا۔ اھ (۳/۳۳۴)
وفی الدر المختار: (افترض عليه إجابته) لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض فكيف فيما هو طاعة بدائع (4/ 264)
وفی الرد المحتار: وعن ابن عمر أنه - عليه الصلاة والسلام – قال «عليكم بالسمع والطاعة لكل من يؤمر عليكم ما لم يأمركم بمنكر» ففي المنكر لا سمع ولا طاعة (4/ 265)
وفیہ أیضاً: وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.
الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه. الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط وحيلة حلها أن يستأجره يوما إلى الليل أو يومين فتصير منافعه مملوكة ثم يستعمله في الذهاب إلى السلطان للأمر الفلاني، وفي الأقضية قسم الهدية وجعل هذا من أقسامها فقال: حلال من الجانبين كالإهداء للتودد وحرام منهما كالإهداء ليعينه على الظلم وحرام على الآخذ فقط،(إلی قولہ) الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب، اهـ ما في الفتح ملخصا. وفي القنية الرشوة يجب ردها ولا تملك وفيها دفع للقاضي أو لغيره سحتا لإصلاح المهم فأصلح ثم ندم يرد ما دفع إليه اهـ، وتمام الكلام عليها في البحر ويأتي الكلام على الهدية للقاضي والمفتي والعمال. (5/ 362)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بلال احمد رزقت علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 47434کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نقل سے حاصل ہونے والی ڈگری پر ملازمت کا حکم - جعلی اسناد

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جعل سازی 0
  • جعلی ڈگری پر ملی ہوئی ملازمت کی تنخواہ کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   جعل سازی 0
  • موبائل کی آئی ایم ای آئیIMEI تبدیل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   جعل سازی 2
  • اسٹڈی ویزہ کیلئے پیسے دے کر جعلی بینک اسٹیٹمنٹ بنوانا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • دھی گاڑھا بنانے کے لئے بھینس کے دودھ میں خشک دودھ ملانا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • کسی دوسرے کی پراڈکٹ پر اپنا لیبل لگاکر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • امتحان میں نقل سے پاس ہوکر حاصل کردہ ڈگری پر ملازمت اور اس کے آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • مطلقہ عورت کا نکاح نامہ میں اپنے کو کنواری لکھوانا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • سرٹیفیکیٹ میں نمبر بڑھوانے کا حکم

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
Related Topics متعلقه موضوعات