السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ہمارے ملک میں ایک پیر صاحب ہے، جس کے مریدین کو مجاہد اور پیر صاحب کو امیر المجاہدین کہا جاتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ حدیث میں ہے: المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله، اس لئے وہ خود کو مجاہد اور امیر المجاہدین کہتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا نفس کے ساتھ جہاد کرنے والے کو اس طرح مجاہد اور ان کے امیر کو امیر المجاہدین کہنا جائز ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جو مغربی جمہوریت چلتا ہے، اس میں ایک اسلامی گروہ نے حصہ لیا، جیسا کہ پاکستان میں جمیعۃ علماء اسلام انتخاب میں حصہ لیتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ اگر اقتدار میں آئے تو اسلامی نظام نافذ کرےگا، اس لئے اس کا ووٹ اور سیاسی پرو گرام سب کچھ جہاد کا حصہ ہے، پہلے قتال فی سبیل اللہ سے اقتدار حاصل ہوتا تھا، اب یہ دور نہیں ہے، اس لیے ووٹ کی سیاست کرنا ہی ہماراملک میں جہاد کے مترادف ہے، کیا ان کا یہ دعوی صحیح ہے ؟ بینوا وتوجروا
واضح ہو کہ اصطلاح میں جہاد دشمن کے خلاف اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے لڑنے کو کہا جاتا ہے، اگر چہ لغت کے اعتبار سے اللہ کی اطاعت اور دین کے کسی بھی شعبہ میں کام کرنے اور اپنی اصلاح کے لئے مجاہدات کرنے پر بھی جہاد کا اطلاق ہوتا ہے، مجاہدۂ نفس کی وجہ سے اپنے آپ کو مجاہد کہنا یا امیرالمجاہدین کہلا نا اصطلاحِ شرع کے خلاف ہے۔ جبکہ مغربی جمہوریت میں شامل ہو کر نفاذِ شریعت کی کوشش کرنا بھی اگر چہ لغۃً ایک طرح جہاد کا حصہ ہے ، مگر اس کو علی الا طلاق جہاد سے موسوم کرنا بھی درست نہیں۔