نفلی روزوں کے احکام

12 ربیع الاول کو عید کہنا اور روزہ رکھنا

فتوی نمبر :
47852
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / روزہ و رمضان / نفلی روزوں کے احکام

12 ربیع الاول کو عید کہنا اور روزہ رکھنا

السلام علیکم !
حضرت میں آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں رہتا ہوں ، میرا نام محمد رازی زبیر ہے ، میرا تعلق کراچی پاکستان سے ہے ، اور میں فقہ حنفی سے تعلق رکھتا ہوں ، میرے تین سوالات ہیں جس کے لئے میں آپ کو ای میل کر رہا ہوں ، گزارش ہیکہ آپ میرے سوال اور مسئلہ کا حل شریعت کے مطابق بتادیں ،
(1) کیا ہم بارہ ربیع الاول کا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ دین میں بارہ ربیع الاول کا روزہ رکھنے کی ممانعت تو نہیں ؟
(2) کیا بارہ ربیع الاول کے دن کو ہم عید میلادالنبی کہہ سکتے ہیں، مذاق میں یا کسی کا دل رکھنے کے لئے جو بارہ ربیع الاول کو عید سمجھتے ہیں ؟
(3) کیا کسی حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ اپنے گھر کے قریب مسجد یا اکثریت کو دیکھیں اور چاند یا رویت ہلال کو نظر انداز کر دیں ؟ جزاک اللہ , آپ کے جواب کا منتظر ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بارہ ربیع الاول کا روزہ رکھنا آپ ﷺ سے ثابت نہیں، اس لئے بارہ ربیع الاول کے روزے کو سنت یا مستحب سمجھ کر رکھنا درست نہیں ، البتہ اگر پیر یا جمعرات کا روزہ پڑے تو اس دن کا روزہ رکھنا آپ ﷺ سے ثابت ہے، اس لئے اس کو پیر یا جمعرات کا روزہ سمجھ کر رکھنا بھی درست ہو گا، جبکہ بارہ ربیع الاول کو عید کہنا درست نہیں، کیونکہ مسلمانوں کی دو / 2 ہی عیدیں مقرر ہیں عید الفطر اور عید الاضحی،اس لئے اس کو تیسری عید شمار کرنا اور اس کا با قاعدہ اہتمام کرنا بھی درست نہیں، جبکہ آپ ﷺ کی پیدائش جن و انس بلکہ پوری کائنات کے لئے بڑی مسرت ہے،اس سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں -
(3) رمضان المبارک اور عید کے لئے شریعت نے چاند کا اعتبار کیا ہے،لہذا جس جگہ رؤیتِ ہلال کمیٹی موجود ہو یا غیر سرکاری کچھ لوگ اہلِ علم کے ہمراہ اس کا اہتمام کرتے ہوں تو مسجد اور اکثریت کو دیکھنے کے بجائے رؤیت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو دیکھ کر رمضان اور عید کا اعلان کیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحيح مسلم : عن أبي قتادة الأنصاري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن صوم الاثنين؟ فقال: «فيه ولدت وفيه أنزل علي (820/2)۔
وفي مشكاة المصابيح : عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد(1/51) ۔
و فی صحيح مسلم : عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه ذكر رمضان فقال: «لا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن أغمي عليكم فاقدروا له»(2/ 759)۔
و فی مشكاة المصابيح : عن أنس قال: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما فقال: «ما هذان اليومان؟» قالوا: كنا نلعب فيهما في الجاهلية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قد أبدلكم الله بهما خيرا منهما: يوم الأضحى ويوم الفطر ". رواه أبو داود(1/ 452) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47852کی تصدیق کریں
0     867
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ذو الحجہ کے شروع ایام میں قضا روزے رکھنا

    یونیکوڈ   نفلی روزوں کے احکام 0
  • کیانفلی روزوں کا وقت مغرب کی نماز سے پانچ منٹ پہلے تک ہوتا ہے؟

    یونیکوڈ   نفلی روزوں کے احکام 0
  • کیا محرم الحرام کی طرح باقی ایام میں بھی ایک روزے کے ساتھ دوسرا روزہ ملانا ہوگا؟

    یونیکوڈ   نفلی روزوں کے احکام 1
  • شوال کے چھ روزوں کے بارے میں حکمِ شرعی کیا ہے؟

    یونیکوڈ   نفلی روزوں کے احکام 1
  • 12 ربیع الاول کو عید کہنا اور روزہ رکھنا

    یونیکوڈ   نفلی روزوں کے احکام 0
  • شوال کے روزے کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

    یونیکوڈ   نفلی روزوں کے احکام 0
  • نفلی روزہ رکھ کر توڑنے کا حکم

    یونیکوڈ   نفلی روزوں کے احکام 0
  • شوال کے چھ روزے رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   نفلی روزوں کے احکام 1
Related Topics متعلقه موضوعات