شوال کے روزے کی فضیلت احادیث کی روشنی میں پورے سال روزے کے برابر ہوتی ہے،اسی طرح کئی موقعوں میں روزہ رکھنے کی جو فضیلت وارد ہوئی ہے،ان روزوں میں ایک یا دو روزے کم ہونے سے کیا وہی فضیلت باقی رہے گی؟ یا روزوں کا ثواب تو ملے گا،مگر وہی مخصوص فضیلت نہیں رہے گی؟
شوال کے روزوں کے متعلق جو فضیلت احادیثِ مبارکہ میں آتی ہے،اس میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ فضیلت رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے پورے چھ روزے رکھنے سے حاصل ہو گی، چنانچہ شوال کے چھ روزوں کے بجائے اگر کوئی چار یا تین روزے رکھے،تو یہی فضیلت اس کو حاصل نہ ہوگی، البتہ جتنے روزے رکھے ہیں،اتنے کا اجر اس کو ضرور ملے گا،جبکہ اللہ تعالی کسی کے عذر یا مجبوری کو دیکھ کر اپنی مہربانی سے پورا ثواب دیدیں،تو یہ اس کی شانِ کریمی ہوگی ۔
كمافى مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:وعن أبي أيوب الأنصاري أنه حدثه أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر رواه مسلم اھ (4/1416)
وفيها ايضاً:ثم لا يخفى أن ثواب صوم الدهر يحصل یحصل بانضمام ست إلى رمضان اھ(4/1416).
کیا محرم الحرام کی طرح باقی ایام میں بھی ایک روزے کے ساتھ دوسرا روزہ ملانا ہوگا؟
یونیکوڈ نفلی روزوں کے احکام 1