میں نے پوچھنا تھا کہ کچھ لوگوں کے کہنے پر گاؤں کے لوگوں نے جنازہ میں شرکت نہیں کی حالانکہ یہ سب اپنے ہی رشتے دار تھے اور جنازہ جس کا تھا اس کے اصل وارث تھے
مجھے یہ سوال گاؤں سے بھیجا ہے مہربانی فرما کر اس کا جواب دیں شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے آپ کے جواب کا انتظار ہے جزاک اللہ
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ میت کے ورثاء نے نماز جنازہ پڑھنے سےکیوں گریز کیا، آیا مرحوم کسی کبیرہ گناہ کے مرتکب تھے یا ذاتی رنجش کی بناء پر ایسا کیا، تاہم اگر ذاتی رنجش کی وجہ سے نماز جنازہ پڑھنے سے رک گئے ہوں تو یہ سخت گناہ کا کام کیا ہے، ان سب لوگوں پر لازم ہے کہ توبہ واستغفار کرلیں اور آئندہ کےلیے اس طرح کےعمل سے اجتناب کریں۔
كما في سنن الترمذى: عن على رضى الله قال : قال رسول الله ﷺ للمسلم على المسلم ست بالمعروف يسلم عليه اذا لقيه ويجيبه اذا دعاه ويشمته اذا عطس الى قوله ويتبع جنازته اذامات ويحب له ما يحب لنفسه - (رقم : 2737)۔
وفي الدر: (والصلاة عليه صفتها (فرض كفاية ) بالاجماع فيكفر منكرها لانه انكر الاجماع قنية ( كدفنه) وغسله وتجهيزه فانها فرض كفاية - اهـ (ج 2 ص 207 )۔