السلام علیکم! جناب میرا نام محمد ندیم ہے، میں ایک گناہ گار مسلمان ہوں، نماز بھی کبھی پڑھتا ہوں، زنا شراب اور شرک کے علاوہ سب گناہ کرتا ہوں ،الحمدللہ میرے والدین حیات ہیں، میری خواہش ہے کہ ان کے وصال کے وقت میں انکوغسل دوں اور نماز جنازہ بھی خود پڑھاؤں یہ سب جانتے ہوئے کہ میں بہت گناہ گار ہوں،میرا یہ عمل جائز ہو گا، یا مسجد کے امام صاحب سے ہی جنازہ کرنا ٹھیک ہے؟
سائل کی زندگی میں اگر سائل کے والدین فوت ہوئے، تو سائل کےلیے والد کو غسل دینا بلاشبہ جائز ہے، البتہ والدہ کو غسل نہیں دےسکتا، جبکہ والدین کی وفات کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھانے کا حق اگر چہ سائل کو حاصل ہوگا، البتہ اگر محلہ کا امام متقی اور پر ہیز گار ہو تو ان سے نماز جنازہ پڑھانا زیادہ بہتر اور افضل ہوگا۔
كما في الرد: اقول وهذا أولى لما يأتي من أن الأصل أن الحق للولي، وإنما قدم عليه الولاة وإمام الحي لما مر من التعليل وهو غير موجود هنا، (الى قوله ) الأصل أن الحق في الصلاة للولي؛ ولذا قدم على الجميع في قول أبي يوسف والشافعي ورواية عن أبي حنيفة لأن هذا حكم يتعلق بالولاية كالإنكاح إلا أن الاستحسان وهو ظاهر الرواية تقدم السلطان ونحوه۔(2/ 220)۔
وفي بدائع الصنائع : وأما بيان الكلام فيمن يغسل فنقول: الجنس يغسل الجنس، فيغسل الذكر الذكر، والأنثى الأنثى؛ لأن حل المس من غير شهوة ثابت للجنس حالة الحياة فكذا بعد الموت، وسواء كان الغاسل جنبا أو حائضا؛ لأن المقصود وهو التطهير حاصل فيجوز . اهـ (1/ 304)۔