کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی سابقہ اولاد میں سے حدیث شریف میں دو بچوں کا جہنمی ہونا مذکور ہے اور سیرتِ مصطفیٰﷺ میں حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کی سابقہ اولاد کا صحابی اور صحابیہ ہونا مذکور ہے۔ مہربانی فرما کر مسئلہ کی وضاحت فرماکر شکریہ کا موقعہ عنایت فرمائیں۔
اُمّ المؤمنین حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کی وہ سابقہ اولاد جنہوں نے زمانہ اسلام پایا اور مشرّف باسلام ہوئی وہ صحابی اور صحابیہ ہیں اور ’’سیرتِ مصطفیٰ‘‘ میں انہی کا تذکرہ ہے ملاحظہ ہو:
’’آپؓ کا پہلا نکاح ابوہالہ بن زرارہ تمیمی سے ہوا، جن سے ’’ہند‘‘ اور ’’ہالہ‘‘ دو بیٹے پیدا ہوئے ’’ہند‘‘ اور ’’ہالہ‘‘ دونوں مشرّف باسلام ہوئے دونوں صحابی ہیں۔ ابو ہالہ کے انتقال کے بعد ’’عتیق بن مخزومی‘‘ کے نکاح میں آئیں جن سے ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام ’’ہند‘‘ تھا، جو مشرف باسلام اور صحابیہ ہوئیں‘‘، چنانچہ درج ذیل روایاتِ حدیث سے ان کے تین بچوں کا قبولِ اسلام او رصحابی ہونا بخوبی واضح ہو رہا ہے، اور مشکاۃ المصابیح‘‘ کی مذکور حدیث میں ان مسلمان بچوں کا کوئی تذکرہ نہیں۔
البتہ اُم المؤ منین کی سابقہ وہ اولاد جو قبل از اسلام انتقال کر گئی تھی، ان کا جہنمی ہونا واضح ہےاور ’’ مشکاۃالمصابیح ‘‘ کی مذکور روایت میں انہی کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔
ففی الإصابة في تمييز الصحابة:وقال ابن حبّان: هالة بن خديجة زوج النّبيّ - صلى الله عليه وسلم - له صحبة۔ (6/ 406)
و فیھا أیضاً: هند بن أبي هالة التميمي: ربيب النّبيّ - صلى الله عليه وسلم - أمّه خديجة زوج النبيّ صلّى اللَّه عليه وآله وسلّم. روى عن النبي - صلى الله عليه وسلم -. روى عنه الحسن بن عليّ صفة النبي - صلى الله عليه وسلم -، أخرجه الترمذيّ، والبغويّ، والطّبراني، وغيرهم، من طرق عن الحسن بن علي. (6/ 436)
عن علي - رضي الله عنه - قال سألت خديجة النبي - صلى الله عليه وسلم - عن ولدين ماتا لها في الجاهلية فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " هما في النار قال فلما رأى الكراهية في وجهها قال لو رأيت مكانهما لأبغضتهما قالت يا رسول الله فولدي منك قال في الجنة قال ثم قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إن المؤمنين وأولادهم في الجنة وإن المشركين وأولادهم في النار ثم قرأ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ﴿والذين آمنوا واتبعتهم ذريتهم بإيمان ألحقنا بهم ذرياتهم﴾ (1/ 41) واللہ أعلم بالصواب!
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0