کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس حدیث کے متعلق کہ کیا مندرجہ ذیل حدیث صحیح، معتبر، حسن، ضعیف یا غلط ہے؟ اگر معتبر ہے تو حوالہ ،کہ بخاری، مسلم، ترمذی میں شامل ہے؟ باب اور حدیث نمبر بھی تحریر کریں ،کافی عرصہ ہوا میں نے سنا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ ایک یہودی لڑکا قریب المرگ ہے، آپ تشریف لے گئے اس کا باپ بھی قریب ہی موجود تھا، حضور ﷺ نے سچائی کا پیغام اس لڑکے کو دیا اور کہا اس کو قبول کرلو، لڑکے نے اپنے والد کی طرف دیکھا، وہ اپنے والد سے معلوم کرنا چاہتا تھا ،والد نے سر ہلاکر اس کو اجازت دے دی، لڑکے نے کلمۂ شہادت پڑھا اور پھر وفات پاگیا، اس پر حضور ﷺ کو بہت مسرت ہوئی۔
محترم آپ نے جس حدیث مبارک کی صحت کے متعلق دریافت کیا ہے اس پوری حدیث کا ترجمہ اس طرح ہے کہ: ’’ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا اور وہ بیمار ہوگیا تو نبی کریم ﷺ اس کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے اور اس کے سر کے قریب جلوہ افروز ہوئے اور اسے فرمایا کہ تو اسلام قبول کرلے تو س لڑکے نے اپنے والد کی طرف دیکھا جو پاس ہی کھڑا تھا اس کے والد نے جواباً کہا کہ ابو القاسم ﷺ کی بات مان لو اس پر اس لڑکے نے اسلام قبول کرلیا جب نبی کریم ﷺ وہاں سے باہر تشریف لائے تو آپ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جہنم سے بچالیا (یعنی جہنم سے چھٹکارا دے دیا ہے)‘‘۔
یہ حدیث امام بخاریؒ اپنی کتاب ’’صحیح البخاری‘‘ میں باب اذا أسلم الصبی فہل یصلی علیہ وہل یعرض علی الصبی الاسلام الخ کے تحت لائے ہیں جبکہ دوسری کتبِ حدیث میں بھی یہ حدیث انہی الفاظ کے ساتھ منقول ہے جو صحیح ہے اور یہ حدیث ہمارے پاکستانی کتب خانوں میں سے قدیمی کتب خانہ کراچی کی مطبوعہ بخاری کی جلد اوّل کے صفحہ ۱۸۱ پر موجود ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0