السلام علیکم! میں نے ایک بیہودہ سوال کہیں پڑھا ’’کیا خدا کوئی ایسا بڑا پتھر بنا سکتا ہے جو وہ خود بھی نہیں اٹھا سکتا؟‘‘ میرا یقین ہے خدا ہمارے فہم سے پَرے ہیں اور اس طرح کے سوال اور تمام چیزوں کا انسان کے لیے جواب دینا ضروری نہیں، اگرچہ وہ میری طرح جاہل ہیں، لیکن میری خواہش ہے کہ اگر اس کا منطقی جواب ہے تو مجھے مطلع کیا جائے تاکہ اطمینان ہو جائے۔
یہ سوال لغو ،بے کار اور محالِ شرعی ہے اس لۓ کہ جب عقلی طور پر ایک ایسی ہستی کا ماننا ضروری ہے جو قادر مطلق ہو کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ، ورنہ کہنا پڑے گا کہ تمام اشیاء خود بخود وجود میں آئیں ہیں ، اور یہ باتفاق تمام عقلاء ناممکن اورمحال ہے لہذا سوال میں درج قسم کی باتیں کرنا عقلی طور پر تسلیم شدہ وجود قادرِمطلق کے نظریے کا ابطال لازم آئے گا جو کہ غلط ہے - تاہم عقلی استدلالات ہٹ کر عرض ہے کہ اس ذات نے اپنے لیے یہ کلماتِ طیبات ارشاد فرمائے ہیں۔’’إن اللہ علی کل شئی قدیر‘‘ کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ففی التفسير الكبير: ﴿إِنَّ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ (البقرة۲۰)احْتَجَّ أَصْحَابُنَا بِهَذِهِ الْآيَةِ عَلَى أَنَّ الْمُحْدَثَ حَالَ حُدُوثِهِ مَقْدُورٌ لِلَّهِ خِلَافًا لِلْمُعْتَزِلَةِ. (2/ 319)
و فی تفسير روح المعاني: وفي الآية دليل على أن الممكن الحادث حال بقائه مقدور لأنه شيء و كل شيء مقدور له تعالى، ومعنى كونه مقدورا أن الفاعل إن شاء أعدمه وإن شاء لم يعدمه الخ(1/ 182)
و فی تفسير البيضاوي: وفيه دليل على أن الحادث حال حدوثه والممكن حال بقائه مقدوران وأن مقدور العبد مقدور لله تعالى، لأنه شيء وكل شيء مقدور لله تعالى. (1/ 53) واللہ أعلم بالصواب!
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0