توحید

وسیلہ کی حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
58823
| تاریخ :
2000-02-02
عقائد / قیامت و آخرت / توحید

وسیلہ کی حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت

کیا فرماتے ہیں علماءِکرام ان مسائل کے بارے میں کہ (۱) جب ہم اس دنیا میں اللہ سے مدد کے طالب ہوتے ہیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ ہم اس کے پیغمبر، اولیاء، الہامی دوست کا وسیلہ دیں؟
(۲) اگر کوئی مردہ ولی کا وسیلہ دے تو کیا وہ بدعتی ہوگا؟
(۳) کیا کوئی حدیث یا قرآنی آیت جو حقیقی مردہ اولیاء کو بیان کرتی ہو سوائے شہداء کے ، جو موت کے بعد بھی زندہ ہیں؟
سوال کے جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیں اور (چھ کتابوں کے) کسی معترض حدیث، قول، ولی یا علماء کا حوالہ نہ دیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) کسی بندہ کی اللہ تعالیٰ کے سامنے راز و نیاز اور دعامانگنے کے دوران قبولیتِ دعا کیلئے کسی زندہ یا مردہ بزرگ شخصیت کا وسیلہ دینا شرعاً کوئی لازم نہیں، البتہ مطلقاً جائز ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ عوام الناس میں مشہور اور مروّج طریقہ وسیلہ کا نہیں بلکہ استمداد کا عام ہے کہ غیر اللہ سے مدد طلب کرتے ہیں اور وسیلہ بایں معنیٰ بلاشبہ ناجائز و حرام اور شرک کے مترادف ہے، ہاں اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا کرے کہ اپنے فلاں فلاں نیک اور بزرگ بندوں کے طفیل اور ان کے وسیلہ، یا خود اپنے عمل کے وسیلہ سے ہماری یہ پریشانی و مشقت دور کردی جائے تو یہ منع نہیں اور اس کا جواز واضح نصوص سے بھی ثابت ہے۔
(۲) وسیلہ بمعنی استمداد تو ناجائز ہے اور مطلقاً وسیلہ جائز ہے اس کا ارتکاب موجب بدعت نہیں، لہٰذا ایسے شخص کو بدعتی کہنا درست نہیں، اس سے احتراز چاہئے۔
(۳) سائل کی اس سوال سے کیا غرض ہے بندہ کی سمجھ میں نہیں آئی لہٰذا سائل کو چاہئے کہ اس آخری سوال سے اپنی مراد واضح کرکے اسے دوبارہ ای میل کردے تاکہ حکم شرعی بیان کیا جاسکے۔ واﷲ اعلم

مأخَذُ الفَتوی

(۱) قال اﷲ تعالٰی: {یٰٓا اَیَّہُا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ}۔ (پارہ:۶۔ سورۃ المائدۃ)-
(۲) وفی صحیح البخاری: عن انس بن مالکؓ أن عمر بن الخطابؓ کان اذا قحطوا استسقی بالعباس بن عبد المطّلبؓ فقال اللّٰہمّ انا کنا نتوسل الیک بنبیّنا فتسقینا وانا نتوسل الیک بعمّ نبیّنا فاسقنا قال فیسقون۔ (ج۱، ص۱۳۷)-
(۳): وفی سننِ الترمذی: عن عثمان بن حنیفؓ ان رجلا ضریر البصر اتی النبی ﷺ فقال ادع اﷲ ان یعافینی قال إن شئت دعوت وان شئت صبرت فہو خیرلک قال فادعہ قال فامرہ ان یتوضأ فیحسن وضوءہ، ویدعوا بہذا الدعاء اللّٰہمّ إنی اسئلک واتوجہ إلیک بنبیک محمّد نبی الرحمۃ إنی توجہت بک إلی ربّی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللّٰہم فشفّعہ فیّ۔ (ج۲، ص۱۹۸)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58823کی تصدیق کریں
0     1347
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • یا رسول اللہ کہنا کیسا ہے ؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   توحید 0
  • اللہ تعالیٰ کیلئے (اوپر والا) کا لفظ استعمال کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   توحید 0
  • توحید بالصفات

    یونیکوڈ   اسکین   توحید 0
  • عذاب قبر سے متعلق عقیدہ - کیا عذاب قبر برحق ہے؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • ’’لو نجٰی أحد من عذاب القبر لنجٰی سعد بن معاذ‘‘ حدیث کی تحقیق

    یونیکوڈ   توحید 2
  • عذاب قبر برحق ہے - عالم برزخ کہاں ہے ؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • وسیلہ کی حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   توحید 0
  • حیات انبیاء و اولیاء

    یونیکوڈ   توحید 0
  • عذابِ قبر

    یونیکوڈ   توحید 0
  • اس کائنات کا خالق اللہ ہے، تو دیگر کائنات کا خالق کون؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • قبر مبارک میں حضور پر نور ﷺ کی حیات

    یونیکوڈ   توحید 0
  • عذابِ قبر حق ہے

    یونیکوڈ   توحید 0
  • قبر میں صرف روح کو عذاب دیا جاتا ہے یا جسم کو بھی

    یونیکوڈ   توحید 1
  • کلام اللہ صوت اور حروف سے منزہ ہےیا نہیں؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • کیا اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ صفات کی بھی عبادت مطلوب ہے ؟

    یونیکوڈ   توحید 0
  • وجود باری تعالیٰ کے بارے میں شک پیدا ہونا

    یونیکوڈ   توحید 0
  • صفاتِ باری تعالی کے بارے میں درست اور صحیح موقف

    یونیکوڈ   توحید 0
  • ’’میں اللہ کو نہیں مانتا’’ اور ہاں میں مسلمان نہیں ہوں‘‘ کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   توحید 1
  • عام روز مرہ کے کاموں میں کسی سے مدد مانگنا

    یونیکوڈ   توحید 0
  • معمولی باتوں پر اللہ کا واسطہ دینا

    یونیکوڈ   توحید 0
  • کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   توحید 0
Related Topics متعلقه موضوعات