کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لفظِ بدعت کی جامع مانع تعریف بتائیں کہ جس سے سنت اور بدعت میں بہ آسانی فرق کیا جاسکے؟ نیز اس کی دو قسمیں یعنی بدعتِ حسنہ و بدعتِ سیّئہ، یہ تقسیم حدیثی ہے یا فقہاءِ کرام نے فرمائی ہے؟ اگر حدیثی ہو تو اس کا حوالہ درکار ہے کہ کس حدیث میں یہ تقسیم مذکور ہے؟
بدعت ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کی اصل شریعت سے ثابت نہ ہو یعنی قرآن مجید اور احادیثِ شریفہ میں اس کا ثبوت نہ ملے اور رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرامؓ، تابعین و تبع تابعینؒ کے زمانہ میں بھی اس کا وجود نہ ہو اور اسے دین کا کام سمجھ کر کیا جائے۔
فی الشامیۃ: البدعۃ ما أحدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول اﷲ ﷺ من علم أو عمل أو حال بنوع شبہۃ واستحسان وجعل دینا قویما وصراطا مستقیما۔ (ج۱، ص۵۶۱)-
بدعتِ حسنہ و سیّئہ کا ذکر اگرچہ احادیثِ مبارکہ میں باقاعدہ تقسیم کی شکل میں موجود نہیں مگر ضمناً ضرور موجود ہے جسے علماءِ امت نے صراحۃً بیان فرمایا ہے۔
وفی تفسیر ابن کثیر: والبدعۃ علی قسمین تارۃ تکون بدعۃ شرعیۃ کقولہ ’’فان کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ‘‘ وتارۃ تکون بدعۃ لغویۃ کقول أمیر المؤمنین عمر بن الخطابؓ عن جمعہ إیاہم علی صلاۃ التراویح واستمرارہم نعمت البدعۃ ہذہ۔ (ج۱، ص۲۱۳) - واﷲ اعلم
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0