کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ڈاکٹر فرحت یا الہدیٰ کیوں صحیح نہیں ہے؟ مہربانی فرماکر تمام تفصیلات بھیجیں، میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا، اگر آپ میں سے کسی نے اس کے بارے میں تمام تفصیلات کے ساتھ کوئی مضمون لکھا ہے تو اسے میرے میل ایڈریس پر بھیج دیجئے یا مجھے اس مضمون کا رابطہ دیجئے۔ شکریہ
ڈاکٹر فرحت ہاشمی گلاسکو یونیورسٹی کی PHD یافتہ اور آزاد خیال عورت ہے جس نے ظاہری طور پر تفسیر قرآنِ کریم اور دین کو آسان کرکے پیش کرنے کے نام سے ایک سالہ کورس ترتیب دیا ہے جسے ایک سالہ ڈپلومہ ان اسلامک اسٹڈیز کہا جاتا ہے، جبکہ در حقیقت وہ اپنی آزاد خیالی کی بناء پر غلط فہمی بلکہ صریح غلطی کا شکار ہے اور اپنے متعلقین کو بھی وہ اسی کی تلقین کرتی ہے۔
اس کے نظریات میں بعض نظریات گمراہانہ ہیں جیسے اجماعِ امت کو اہمیت نہ دینا، تقلید کو علی الاطلاق شرک قرار دینا (جس کا مطلب یہ ہے کہ چودہ سو سال کی تاریخ میں امت مسلمہ کی اکثریت جو ائمہ مجتہدین میں سے کسی کی تقلید کرتی رہی ہے وہ مشرک ہے) اسی طرح قضاء عمری فوت شدہ نمازوں کو قضاء کرنے کی ضرورت نہیں صرف توبہ کافی ہے اور بعض نظریات جمہور امت کے خلاف ہیں مثلاً تین طلاقوں کو ایک قرار دینا جبکہ بعض بدعت وغیرہ بھی ہیں جیسے خواتین کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی تلقین و ترغیب دینا، صلوٰۃ التسبیح کی نماز باجماعت کا اہتمام کرنا، نیز بعض نظریات فتنہ انگیز بھی ہیں مثلاً علماء و فقہاء سے بدظن کرنا، مدارس دینیہ کی اہمیت ذہنوں سے کم کرکے مختصر کورس کو علم دین کیلئے کافی سمجھنا، اسی طرح جو مسائل کسی مجتہد نے قرآن و حدیث سے اپنے گہرے علم کی بناء پر مستنبط کئے ہیں انہیں باطل قرار دے کر اسے قرآن و حدیث کے خلاف قرار دینا اور اس پر اصرار کرنا ، ان جیسے نظریات و اعتقادات کی اشاعت اور تبلیغ کی وجہ سے معاشرے میں افتراق وانتشار اور اسلامی احکام میں شکوک و شبہات پیدا ہورہے ہیں اور دینِ متین سے بیزاری اور آزاد خیالی کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کی بناء پر مسلمانوں کو ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے اور ان کی معاونت وغیرہ سے احتراز لازم ہے۔ واﷲ اعلم بالصواب