ڈاکٹروں نے ہمارے صاحبزادے کی پیدائش کے ساتھ ہی بیماری کی وجہ سے اُسے ICU میں شفٹ کر دیا اور پھر چند دن گزرنے کے بعد ڈاکٹروں نے جواب دے دیا اور وینٹیلیٹر پر شفٹ کرنے کو کہا اور صرف دعا پر انحصار کرنے کو کہا، چونکہ اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی پیدائش کا دن تھا اس لئے میں نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں اور اس دن کا واسطہ دیا اور کہا کہ "اے اللہ! یہ بچہ بھی تیرا بندہ ہے، اسے صحت والی زندگی عطا فرما اور پھر بے اختیار میرے منہ سے "عبداللہ" نکلا"، اس کے بعد میں نے( پارہ ۳/ سور ۃ آل عمران کی آیت نمبر ۳۵) میں مانی گئی منت کے مطابق اللہ کی بارگاہ میں منت مانی کہ" اے اللہ! اگر تو میرے بیٹے کو صحت کے ساتھ زندگی عطا کر دے گا تو میں اس کا نام "عبداللہ" رکھوں گا" اور جب اللہ نے میری دعا قبول فرمائی اور میرے بیٹے کو صحت عطا فرمادی اور جب ماں اور بچہ ہسپتال سے خیریت کے ساتھ گھر پر آگئے تو میں نے اللہ کے حکم (پارہ ۱۷ سورہ الحج ، آیت ۲۹) کے مطابق اپنی مانی ہوئی منت پوری کرنے کے لئے اپنے بیٹے کا نام" عبد اللہ" رکھ دیا،یہ بات میں نے اپنے بچے کی ماں کوبھی بتادی تھی جس پر اس نے کوئی خاص رد عمل نہیں کیا تھا یا کسی قسم کا اعتراض نہ کیا تھا ، لیکن اُس نے مجھ سے اپنی خواہش کے مطابق کئی نام رکھنے کا اظہار کیا تھا، کچھ دنوں کے بعد میری بیوی نے اس بات پر اعتراض کیا اور بچے کا نام "یحیٰ" رکھ دیا اور ایک عرصہ تک وہ صاحب زادہ کو "یحیٰ" کے نام سے پکارتی رہی ، جس پر میں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا ، میں نے بچے کی تندرستی کے لئے اللہ سے منت مانی تھی،مگر میری بیوی نے میری بات نہیں مانی اور پھر اپنی "انا" کا مسئلہ بنا کر بچے کو صرف "یحیٰ" کے نام سے ہی پکارنا شروع کر دیا ہے۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مندرجہ بالا مسئلہ کے مطابق اگر میری بیوی میری مانی ہوئی منت کے خلاف عمل کرتی ہے تو کیا وہ قرآن و سنت کے خلاف ہوگا ، اور اُس نے میری ( بحیثیت شوہر ) نا فرمانی کی ہے؟ شریعت میں اولاد کا نام رکھنے کا سب سے زیادہ حق ماں باپ میں سے کسے حاصل ہے؟ اور کیا سوتیلا باپ اپنی اہلیہ کے بچے کا نام رکھنے کا حق رکھتا ہے یا نہیں؟شریعت کے مطابق شوہر اپنی اولاد کا نام رکھنے کے لئے اپنی بیوی کی مرضی کا پابند ہوتا ہے یا نہیں؟ کیا بچے کو منت ماننے کے مطابق "عبد اللہ" کے نام سے پکارا جائے گا یا نہیں اور اگر بچے کو"یحیٰ"کے نام سے پکارا جائے تو یہ جائز ہو گا یا نہیں؟ کیا ایک ماں طلاق کے بعد اپنے بچے کا"منتی" نام جو کہ اُس کے باپ نے رکھا تھا، تبدیل کرسکتی ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ نذر(منّت) کے منعقد ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جس کام کی نذر مانی جا رہی ہے وہ عبادتِ مقصودہ میں سے ہو، اور نام رکھنا چونکہ عبادتِ مقصودہ کی قبیل میں سے نہیں ہے، اس لئے سائل نے بیٹے کی صحت یابی پر جو منّت مانی ہے، وہ شرعاً منعقد نہیں ہوئی، لہٰذاسائل کے ذمہ بیٹے کا نام "عبداللہ" رکھنا شرعاً لازم نہیں، تاہم جب سائل نے بیٹے کیلئے اس نام کا انتخاب کر لیا ہے،تو چونکہ اولاد کیلئے "نام" کاانتخاب شرعاً والد کا حق ہے اور مذکور نام اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ ناموں میں سے ایک ہے،اس لئے سائل کی بیوی کیلئے اسے اپنی"انا" کا مسئلہ بنا کر سائل کے منتخب کردہ نام کو تبدیل کرکے بچے کیلئے"یحیٰ"نام منتخب کردینا اور اسکو باہمی ناراضگیوں اور اختلافات کا باعث بنانا درست نہیں،جس سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
کما فی مشكاة المصابيح : و عن أبي سعيد و ابن عباس قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :« من ولد له ولد فليحسن اسمه و أدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ و لم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه» (2/ 939)۔
و فی البحر الرائق : النذر لا يصح إلا بشروط ثلاثة في الأصل إلا إذا قام الدليل على خلافه إحداها أن يكون الواجب من جنسه شرعا و الثاني أن يكون مقصودا لا وسيلة و الثالث أن لا يكون واجبا عليه في الحال أو في ثاني الحال فلذا لا يصح النذر بصلاة الظهر و غيرها من المفروضات لانعدام الشرط الثالث اھ (2/ 317)۔
و فی بدائع الصنائع : أما الذي يتعلق بالناذر فشرائط الأهلية : (الی قوله) (و منها) أن يكون قربة مقصودة ، فلا يصح النذر بعيادة المرضى و تشييع الجنائز و الوضوء و الاغتسال و دخول المسجد و مس المصحف و الأذان و بناء الرباطات و المساجد و غير ذلك و إن كانت قربا ؛ لأنها ليست بقرب مقصودة ۔ (5/ 82)۔
و فی تحفة المودود بأحكام المولود : الفصل الخامس في أن التسمية حق للأب لا للأم : هذا مما لا نزاع فيه بين الناس ، و إن الأبوين إذا تنازعا في تسمية الولد ، فهي للأب . و الأحاديث المتقدمة كلها تدل على هذا . و هذا كما أنه يدعى لأبيه لا لأمه ، فيقال : فلان ابن فلان ، قال تعالى :]ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله) [الأحزاب/٥) و الولد يتبع أمه في الحرية و الرق ، و يتبع أباه في النسب ، و التسمية تعريف للنسب و المنسوب ، و يتبع في الدين خير أبويه دينا . فالتعريف كالتعليم و العقيقة ، و ذلك إلى الأب ، لا إلى الأم ، و قد قال النبي - صلى الله عليه و سلم -:" ولد لي الليلة مولود فسميته باسم أبي إبراهيم " و تسمية الرجل ابنه كتسمية غلامه اھ (197)۔