ہمارے دو گھر ہیں جب ہم نے دس سال قبل یہ گھر خریدے، ہم نے کہاتھا کہ ان میں سے ایک ہم اللہ کی راہ میں دیتے ہیں، اب دونوں کرائے پر ہیں، ہم ان میں سے بڑا گھر اللہ کی راہ میں دینا چاہتے ہیں، مگر اس وقت یہ گھر ہماری تنخواہ کا ذریعہ ہے، کیونکہ میں کوئی نوکری نہیں کر رہاہوں، تو کیا ایسا ممکن ہوسکتاہے کہ اگر ہم اس گھر کو دینے کے بجائے اس کی نقد قیمت دیں، کیونکہ اگر ہم اسے بیچیں گے اور کرائے کے لیے ایک اور گھر خریدیں گے تو یہ مشکل عمل ہوجائے گا، مگر اگر ہم اللہ کی راہ میں دیے ہوئے گھر کی نقد قیمت ادا کریں اور یہ کرائے پر ہی ہوتا کہ کرایہ آتارہے تو کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے؟ یا ہمیں بیچنے کے بعد اس گھر کو دینا ہوگا؟
سائل نے اگر مذکور گھر اللہ کی راہ میں دینے کی نذر نہیں مانی بلکہ اس کو اللہ کی راہ میں دینے کا صرف ارادہ کیا تھا تو اس پر اس گھر کا صدقہ کرنا لازم نہیں اور نہ ہی اس کی قیمت دینا لازم ہے ہاں اگر سائل اپنی مرضی سے مذکور مکان یا کوئی دوسری جگہ یا رقم اللہ کی راہ میں دینا چاہے تو اس کا اُسے اختیار ہے۔
فی الدر: ومن نذر نذرًا مطلقا او معلقًا بشرط ووجد الشرط المعلق لزم الناذر لحدیث ’’من نذر وسمی فعلیہ الوفاء بما سمی‘‘. (ج:۳ ص: ۷۳۵) واللہ اعلم بالصواب