کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک استاد نے تعلیمِ اسباق میں شاگردوں کے سبق یاد نہ ہونے پر غصہ میں کہا ’’تمہاری تعلیم پر لعنت ہے‘‘ اور یہ الفاظ دو بار کہے تو ان کا کیا حکم ہے؟ صرف و نحو پر محنت نہ کرنے پر غصہ ہوا، لعنت سے مراد بربادی لی ہے۔
مذکور خط کشیدہ الفاظ سے اگر استاد کی مراد طالب علم کی ناقص کارگردگی اور طرزِ عمل ہو تو یہ محض تنبیہ کے الفاظ ہیں، ان کی وجہ سے استاد پر معترض ہونا اچھی بات نہیں، تاہم مذکور استاد موصوف کو چاہیے کہ دورانِ تنبیہ بھی سوچ سمجھ کر بولنے کی کوشش اور احتیاط والا پہلو اپنائے اور عام زبان استعمال کرنے سے احتراز کرے۔
ففی البحر الرائق: وفی الخلاصة وغیرھا إذا کان فی المسئلة وجوه توجب التکفیر ووجه واحد یمنع التکفیر فعلی المفتی أن یمیل إلی الوجه الذی یمنع التکفیر تحسینا للظن بالمسلم اھ (۵/۱۲۵)-
الدر المختار : (و) اعلم أنه (لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن اھ (4/ 229)-
جاننے والے اور نا جاننے والے برابر ہیں؟ علم میں بخل ,حسد و غرور کرنا, بغير استاد تحصيل علم
یونیکوڈ مکروھات نماز 0