کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ دھوپ ہونے کی صورت میں نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھائی جاسکتی ہے ؟ یعنی امام محراب سے باہر یعنی مسجد سے باہر کھڑا ہو اور امام کے ساتھ دس بارہ آدمی بھی کھڑے ہوں تو کیا اس صورت میں نمازِ جنازہ درست ہے؟ اور اگر امام اور مقتدی سب مسجد کے اندر ہوں اور میت باہر پڑی ہو تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
نمازِ جنازہ کے ادا کرنے کی اصل جگہ آبادی سے باہر میدان ہے یا وہ جگہ جو خاص نمازِ جنازہ کیلئے بنائی گئی ہو ،مساجد میں نمازِ جنازہ ادا کرنا خواہ میت مسجد سے باہر رکھی ہو اور امام کے ساتھ چند مقتدی محرابِ مسجد سے باہر کھڑے ہوں، یا صرف میت مسجد سے باہر رکھی ہو ، امام اور باقی قوم مسجد میں ہو ، یا میت بھی مسجد میں رکھی ہو اور امام اور قوم بھی مسجد میں ہی ہو ، مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں سے کوئی بھی کراہت سے خالی نہیں، البتہ اگر پہلی صورت اختیار کی جائے تو اس کی بعض فقہاء نے اجازت دی ہے، تاہم اس سے بچنا بھی بہتر اور افضل ہے ،لہٰذا جب تک شدید مجبوری نہ ہو مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے سے احتراز کیا جائے۔
فی الہندیۃ: وصلاۃ الجنازۃ فی المسجد الذی تقام فیہ الجماعۃ مکروہۃ سواء کان المیت والقوم فی المسجد أو کان المیت خارج المسجد والقوم فی المسجد أو کان الامام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقی فی المسجد أو المیت فی المسجد والإمام والقوم خارج المسجد ہو المختار۔ اھـ (ج۱، ص۱۶۸)-