کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ (۱) خودکشی کرنے والے شخص کی موت کو کیا حرام موت کہنا جائز ہے یا نہیں؟
(۲) ساتھ ہی یہ بھی بتایا جائے کہ اگر کوئی شخص کسی رافضی (شیعہ) کی نماز جنازہ میں شرکت کرتا ہے تو اس کے بارے میں شرع اسلام میں کیا فرمان ہے؟
(۳) ساتھ ہی یہ بھی عرض ہے کہ قربانی کے جانور کا کتنا حصہ داغی یا کٹا ہوا ہو تو قربانی جائز ہے کیونکہ اگر جانور کا تھوڑا سا کان کٹا ہو یا سینگ تھوڑی سی ٹوٹی ہو تو کہتے ہیں کہ قربانی نہیں ہوسکتی؟
(۱) خودکشی کرنا حرام ہے لہٰذا اس فعل کا ارتکاب کرنے والے شخص کی موت کو ’’حرام موت‘‘ کہنے میں شرعاً کوئی قباحت نہ ہوگی۔
(۲) شرعاً نمازِ جنازہ کی صحت کیلئے جن شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ان میں سے میت کا مسلمان ہونا بھی ہے، لہٰذا جو روافض (شیعہ) حضرت علیؓ کو ’’خدا‘‘ مانتے ہیں یا ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت کا انکار کرتے ہیں یا حضرت عائشہؓ پر تہمت کو صحیح مانتے ہیں وہ بلاشبہ کافر ہیں، ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا شرعاً ناجائز ہے۔
اور جو شیعہ مذکورہ عقائد نہیں رکھتے بلکہ حضرت علیؓ کو باقی صحابہ پر فضیلت دینے یا اس جیسے نظریات کے قائل ہیں، وہ ’’بدعتی‘‘ ہیں جن کی نمازِ جنازہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کسی نے بھی اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی ہو تو مسلمان ہونے کیوجہ سے اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لینی چاہئے اور اگر کسی نے ان کی نماز جنازہ پڑھ لی ہو، یا اس کے ہم خیال لوگ موجود ہوں تو اس قسم کے شیعہ کے جنازہ میں بھی شرکت سے احتراز کرنا چاہئے۔
(۳) جس جانور کا کوئی عضو مثلاً دم یاکان وغیرہ ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹا ہوا ہو تو اس جانور کی قربانی درست نہیں، اور سوال میں لفظ ’’داغی‘‘ سے اپنی مراد کی وضاحت کرکے سوال دوبارہ کیاجائے، ان شاء اﷲ جواب دے دیا جائے گا۔
البتہ سینگ کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جس جانور کے پیدائش ہی سے سینگ نہیں یا سینگ تو تھے لیکن ٹوٹ گئے اس کی قربانی درست ہے، اور اگر بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں(اس طور پر کہ اس کا اثر دماغ تک پہنچ چکا ہو)تو قربانی درست نہ ہوگی۔ (کذا فی الدر المختار: ج۶، ص:۳۲۳) وﷲ اعلم!
قال رسول ﷲ ﷺ :من قتل نفسہ بحدیدۃ فحدیدتہ فی یدہ یتوجأ بہا فی بطنہ فی نار جہنم خالدًا مخلدًا فیہا ابدًا ومن شرب سمًّا فقتل نفسہ فہو یتحسّاہ فی نار جہنم خالدًا مخلدًا فیہا ابدًا ومن تردی من جبل فقتل نفسہ فہو یتردّی فی نار جہنم خالدًا مخلدًا فیہا ابدًا۔(مسلم: ج:۱، ص:۷۲)
قال العلامۃ ابن عابدینؒ:
أن الرافضی إذا کان یسب الشیخین ویلعنہا فہو کافر وإن کان یفضل علیّا علیہما فھو مبتدع (الی ان قال) نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشۃؓ أو أنکر صحبۃ الصدیقؓ، أو اعتقد الألوہیۃ فی علی أو ان جبریل غلط فی الوحی، أو نحو ذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن۔
(رد المحتار: ج:۴، ص:۲۳۷)
عن ابن عمرؓ قال:
قال رسول ﷲ ﷺ :ان القدریۃ مجوسُ ہذہ الامۃ ان مرضوا فلا تعود وہم وان ماتوا فلا تشہدوہم۔ (مشکوٰۃ: ج:۱، ص:۲۲)
وفی الرد: روی محمد عنہ فی الأصل الجامع الصغیر أن المانع ذہاب اکثر من الثلث وعنہ أنہ الثلث الخ (ردالمحتار: ج:۶، ص:۳۲۳)