کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ایک مولوی صاحب نے اپنے کسی عزیز کا جنازہ پڑھانے کے بعد فرمایا کہ عورت کا نماز جنازہ ولی کی موجودگی و عدم موجودگی دونوں صورتوں میں محلہ کا امام نہیں پڑھاسکتا، مطلوبِ امر مسئلہ یہ ہے کہ اس امام محلہ کے لئے وہ عورت غیر محرم تصور کی جاتی ہے توکیا وہ امام محلہ اس عورت کی جو اس کے لئے غیر محرم ہے جنازہ پڑھاسکتا ہے کہ نہیں؟ قرآن و سنت سے ہماری اس مجبوری کو دور فرمائیں۔ شکریہ!
صورتِ مسئولہ میں مولوی صاحب موصوف کا قول درست نہیں البتہ نمازِ جنازہ پڑھانے کا سب سے زیادہ حقدار حاکمِ وقت ہے اس کے بعد اس کا نائب ،پھر قاضی (یعنی جج) کو، اس کے بعد میت کے اولیاء کو یہ حق حاصل ہوگا، اور اگر ان میں کوئی نمازِ جنازہ پڑھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو(یا موجود نہ ہو) تو پھر نمازِ جنازہ پڑھانے کا زیادہ حقدار محلہ کا امام ہے اور اگر میت کے اولیاء (اگرچہ وہ عالم و فاضل ہوں) کسی دوسرے کو نمازِ جنازہ پڑھانے کیلئے آگے کردیں اس کے پیچھے بھی نمازِ جنازہ پڑھنا (خواہ میت مرد کی ہو یا عورت کی) بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
فی الدر المختار: ویقدم فی الصلاۃ علیہ السلطان أو نائبہ ثم القاضی ثم امام الحی وذلک أن تقدیم الولاۃ واجب وتقدیم امام الحی مندوب فقط بشرط أن یکون أفضل من الولی، والّا فالولی اولٰی کما فی المجتبی وشرح المجمع للمصنف۔اھـ(ج:۲، ص:۲۲۰) واﷲ اعلم!