کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ:
(۱) اگر کوئی متعصب شیعہ جو سرِ عام صحابہ کرامؓ کو گالیاں دیتا ہو ، فوت ہوجائے تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جاسکتی ہے یا کہ نہیں؟
(۲) مسئلہ معلوم ہونے کے باوجود اگر کچھ لوگ نماز پڑھ لیں، تو نماز پڑھانے والے امام اور پڑھنے والے مقتدیوں کا شرعاً کیا حکم ہے اور ان کی کیا سزا ہے؟
(۳) مسلمانوں کے قبرستان میں اس کو دفن کیا جاسکتا ہے یا کہ نہیں؟ اور اگر کردیا گیا ہو تو اس کو منتقل کرنا چاہیئے یا نہیں؟ نیز اگر منتقل کرنے میں جھگڑے کا خطرہ ہو ، یا قبرستان میں دفن کرتے وقت جھگڑے اور فتنہ کا خطرہ ہو تو پھر کیا کرنا چاہیئے؟
(۴) شیعہ کے ساتھ کھانا پینا شرعاً کیسا ہے؟ اگر پڑوس میں رہتے ہوں اور ان کے گھر سے پکی ہوئی چیز یا کوئی اور چیز آئے تو اس کو استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ نیز دیگر معاملات کا کیا حکم ہے؟
ازراہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں باحوالہ جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع دیں۔
جو شیعہ صریح کفریہ عقیدہ رکھتے ہوں مثلاً حضرت عائشہ صدیقہؓ پر لگائی جانے والی تہمت کو برحق سمجھتے ہوں یا ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت کے منکر ہوں یا اس بات کا عقیدہ رکھتے ہوں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وحی پہنچانے میں غلطی کی ہے یا تحریفِ قرآن کریم کے معتقد ہوں یا اس کے علاوہ اور کسی صریح نصِ قطعی کے مخالف عقیدہ رکھتے ہوں ، تو ایسے شیعہ بالاتفاق کافر ہیں، ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرنا، ان کا ذبیحہ کھانا، ان پر نمازِ جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا یا ان کے ساتھ دیگر معاملات میں مسلمانوں جیسا سلوک کرنا قطعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے پرہیز کرنا واجب ہے۔
اور جو شیعہ صریح کفریہ عقیدہ تو نہ رکھتے ہوں محض تفضیلی ہوں یعنی باقی صحابہ پر حضرت علیؓ کی افضلیت کے قائل ہوں، مذکورہ بالا عقائد رکھنے والوں کو کافر بھی سمجھتے ہوں اور کسی نصِ قطعی کے خلاف کوئی عقیدہ بھی نہ رکھتے ہوں تو ایسے شیعہ فاسق اور مبتدع ہیں، اور ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کرنا شرعاً جائز ہے، لہٰذا ان کے برتنوں میں یا ان کی دی ہوئی چیز کے کھانے، ان پر نمازِ جنازہ پڑھنے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی بھی شرعاً گنجائش ہے، البتہ اگر ان کے ہم مشرب اور ہم مسلک لوگ موجود ہوں تو احتیاط اور بہتری شرکت سے پرہیز کرنے میں ہی ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں جس شیعہ کا ذکر ہے اگر واقعۃً پہلی قسم سے تھا، تو جن لوگوں نے باوجود اس کے کفر کا علم ہوتے ہوئے اس پر نمازِ جنازہ پڑھی ہے، یا امام نے پڑھائی ہے تو ان سب نے ایک ناجائز اور فعلِ حرام کا ارتکاب کیا ہے، جس کی وجہ سے ان پر واجب ہے کہ وہ فوراً اپنے اس فعل پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کریں، اور آئندہ کیلئے اس سے پرہیز کرنا بھی واجب ہے، اور جنہیں معلوم نہیں تھا وہ گناہگار بھی نہیں ہوئے، اب رہا مسلمانوں کے قبرستان میں ایسے شخص کو دفن کرنے کا مسئلہ تو قانونی کاروائی کے ذریعہ اگر اسے نکلوایا جاسکتا ہے تو نکلواسکتے ہیں، ورنہ فتنہ سے پرہیز کرنا ہر حال میں بہتر ہے۔
وفی الشامیۃ :اقول: نعم نقل فی البزازیۃ عن الخلاصۃ أن الرافضی إذا کان یسب الشیخین ویلعنہما فہو کافر، وإن کان یفضل علیًا علیہما فہومبتدع۔
(وبعد اسطر )نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشۃؓ أو انکر صحبۃ الصدیق، أو اعتقد الألوہیۃ فی علی أو أن جبریل غلط فی الوحی، أو نحو ذٰلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن( الخج۴، ص۲۳۷)۔
وفی الھندیۃ :الرافضی إذا کان یسب الشیخین ویلعنہما والعیاذ باﷲ فہو کافر وإنکان یفضل علیا کرم اﷲ وجہہ علی ابی بکرؓ لا یکون کافر إلا انہ مبتدع۔ (ج۴، ص۲۶۴)۔