کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
مثلاً پنجاب میں ایکسیڈینڈ کے نتیجے میں میت ہوگئی، پوسٹ مارٹم کے بعد غسل تکفین ہوگیا، اور جنازہ بھی پڑھایا گیا، میت کے رشتہ داروں نے جنازہ کے بعد میت کی لاش کو کراچی بذریعہ روڈ گاڑی میں لایا، یہاں پہنچنے کے بعد مقامی پیشِ امام نے اس میت کا دوبارہ جنازہ پڑھایا ، یعنی غسل دوبارہ نہیں دیا ، صرف جنازہ پڑھایا، اور پوچھنے پر بتایا کہ جنازہ دعا ہے جنازہ کرنے میں کوئی کراہت نہیں، مہربانی فرماکر دلائل کے ساتھ وضاحت فرمائیں کہ، اس پیش امام کا یہ فعل جائز ہے یا نہیں؟
اس میں تو شک نہیں کہ نمازِ جنازہ دُعا ہے، مگر شریعتِ مطہرہ نے اس کے آداب واحکام بھی بیان فرمائے ہیں، جن میں سے یہ بھی ہے کہ،کسی میت پر دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا درست نہیں، البتہ اگر میت کے اولیاء میں سے کوئی پہلی مرتبہ شرکت نہ کرسکا ہو ، تو اس کیلئے یہ عمل جائز اور درست ہے، اب اس کے ساتھ دوسرے لوگ بھی دوبارہ نمازِ جنازہ میں شرکت کرسکتے ہیں، لہٰذا مولوی صاحب موصوف نے بھی میت کے اولیاء میں سے اُس ولی کی اجازت اور حکم سے نمازِ جنازہ دوبارہ پڑھایا ہے، جس ولی نے پہلی مرتبہ پنجاب میں نمازِ جنازہ نہیں پڑھا تھا ، تب تو ان کا یہ عمل بلاشبہ جائز اور درست ہے، ورنہ ایسے اُمور سے اجتناب لازم ہے۔
ففی الدر المختار: فان صلٰی غیرہ ای غیر الولی ممن لیس لہ حق التقدم علی الولی ولم یتابعہ الولی اعاد الولی ولو علٰی قبرہ ان شاء لاجل حقہ لا لاسقاط الفرض ولذا قلنا لیس لمن صلٰی علیہا ان یعید مع الولی لان تکرارہا غیر مشروع اھ
وفی رد المحتار تحت (قولہ غیر مشروع) ای عندنا وعند مالک خلافا للشافعی والادلۃ فی المطولات الخ (222/2) واﷲ اعلم!