کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا حدیث سے ثابت ہے کہ مسلمان کا جھوٹا پاک ہے اور جہاں تک سننے میں آیا ہے کہ مسلمان کے جھوٹے میں شِفاء ہے، جبکہ دورِ جدید کی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ گلے کی بیماریاں جھوٹا پینے سے ہوتی ہیں اور ایک تحقیق یہ بھی ہے کہ ہیپا ٹائٹس بی (یرقان کی بگڑی ہوئی ایک صورت) بھی ہو سکتی ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ حدیث اور مذکورتحقیق کی کیا تطبیق ہے؟
بلاشبہ مسلمان کا جھوٹا پاک اور باعثِ شِفاء ہے اور دورِ جدید کی تحقیق کا مطلب اگر یہ ہو کہ کسی شخص کے گلے میں اگر بیماری ہو تو اس کے جراثیم دوسرے کی طرف منتقل ہونے کا امکان ہے تو یہ حدیث کے خلاف نہیں، اس لۓ کہ حدیث سے صحت مند اور عوارض سے پاک مسلمان متبادر ہے اور اگر تحقیقِ جدید مسلمان کے جھوٹے کو مطلقاً باعثِ بیماری قرار دے رہی ہو تو ایسی تحقیق کا حدیث کے مقابلہ میں کوئی اعتبار نہیں۔
فی حاشیة کنز العمال: فأمّا ما یدور علی الألسنه من قولهم: سؤر المؤمن شفاء فیصدق لما رواہ الدارقطنی فی الافراد عن ابن عباس رفعه: من التواضع أن يشرب الرجل من سؤر أخيه کذا فی المقاصد اھ وفی موضوعات القاری: من أنهما لا أصل لهما فی المرفوع لعله یرید بلفظه ثم یقول: رأیته فی الکبریٰ قال: کل منهما معناہ صحیح فاعرفه اھ (۳/۱۱۶)۔
وفي كشف الخفاء: (ريق المؤمن شفاء) ليس بحديث ، ولكن معناه صحيح ، ففي الصحيحين كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا اشتكى الإنسان الشئ إليه أو كانت به قرحة أو جرح قال بأصبعه يعني سبابته بالأرض ثم رفعها لهم وقال بسم الله تربة أرضنا بريقة بعضنا يشفي سقيمنا بإذن ربنا ، وأما ما يدور على الألسنة من قولهم سؤر المؤمن شفاء فيصدق به ما رواه الدارقطني في الأفراد عن ابن عباس رفعه من التواضع أن يشرب الرجل من سؤر أخيه ، كذا في المقاصد فما في موضوعات القاري من أنهما لا أصل لهما في المرفوع ، لعله يريد بلفظه ثم رأيته في الكبرى قال في كل منهما معناه صحيح فاعرفه ، وسيأتي لذلك تتمة في : سؤر المؤمن شفاء اھ(1/ 436)۔