جعل سازی

اسٹڈی ویزہ کیلئے پیسے دے کر جعلی بینک اسٹیٹمنٹ بنوانا

فتوی نمبر :
59665
| تاریخ :
2022-10-19
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / جعل سازی

اسٹڈی ویزہ کیلئے پیسے دے کر جعلی بینک اسٹیٹمنٹ بنوانا

سوال: السلام علیکم حضرت مفتی صاحب کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ ایک شخص لندن سٹڈی ویزہ کیلئے اپلائی کرتا ہے چونکہ اس کے لیئے بینک سٹیٹمنٹس کی ضرورت ہوتی ہے تو بینک مینجر متعین رقم کے عوض اس فرد کو بینک سٹیٹمنٹس فراہم کرتا ہے ۔ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے۔
والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

الجواب حامدا و مصلیا
واضح ہوکہ سائل نے اگر مذکور اسٹڈی ویزہ اور بینک اسٹیٹمنٹ کی شرائط مکمل نہ کی ہوں تو اس کیلئے بینک منیجر یا کسی اور کو پیسے دے کر جعلی بینک اسٹیٹمنٹ بنوانا دہوکہ دہی اور رشوت پر مبنی عمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں،بلکہ گناہ ہے،جس سے اجتناب لازم ہے،واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 59665کی تصدیق کریں
0     1400
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نقل سے حاصل ہونے والی ڈگری پر ملازمت کا حکم - جعلی اسناد

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   جعل سازی 0
  • جعلی ڈگری پر ملی ہوئی ملازمت کی تنخواہ کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   جعل سازی 0
  • موبائل کی آئی ایم ای آئیIMEI تبدیل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   جعل سازی 2
  • اسٹڈی ویزہ کیلئے پیسے دے کر جعلی بینک اسٹیٹمنٹ بنوانا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • دھی گاڑھا بنانے کے لئے بھینس کے دودھ میں خشک دودھ ملانا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • کسی دوسرے کی پراڈکٹ پر اپنا لیبل لگاکر فروخت کرنا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • مطلقہ عورت کا نکاح نامہ میں اپنے کو کنواری لکھوانا

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • امتحان میں نقل سے پاس ہوکر حاصل کردہ ڈگری پر ملازمت اور اس کے آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
  • سرٹیفیکیٹ میں نمبر بڑھوانے کا حکم

    یونیکوڈ   جعل سازی 0
Related Topics متعلقه موضوعات