کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی جنگل میں ایک مہینہ کے بعد مرا ہوا پایا گیا تو اُس کے خراب اور بدبودار ہونے کی وجہ سے علاقہ والوں نے بغیر جنازہ کے دفن کیا، تو آیا بغیر نمازِ جنازہ کے آدمی دفن کیا جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر اگر دفن کیا ہو تو اس کے ساتھ کیا کریں؟
شخصِ مذکور کی میّت اگر واقعۃً پھول اور پھٹ کر خراب ہو گئی تھی تو اس صورت میں اس پر نمازِ جنازہ کا پڑھنا لازم ہی نہیں تھا، بلکہ اُس کے لۓ دعا اور استغفار کا اہتمام کرتے رہنا چاہیۓ۔
فی حاشیة الطحطاوی: حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح قوله ( ما لم يتفسخ ) أي تفرق أعضاؤه فإن تفسخ لا يصلى عليه مطلقا لأنها شرعت على البدن ولا وجود له مع التفسخ وأما صلاته صلى الله عليه وسلم على شهداء أحد بعد ثمان سنين على ما رواه البخاري عن عقبة بن عامر فمحمول على الدعاء أو لأنهم لم يتفسخوا فإن معاوية لما أراد تحويلهم ليجري العين التي بأحد عند قبور الشهداء وجدهم كما دفنوا حتى أن المسحاة أصابت إصبع حمزة رضي الله عنه فانفطرت دما فتركهم أو هو خصوصية له صلى الله عليه وسلم وتمامه في شرح المشكاة اھ (ص: 391)۔