کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جنازہ تیار ہے ,صفیں کھڑی ہیں امام صاحب یا اور کوئی آدمی جہراً لوگوں کو مخاطب کر کے ،نیت بلند آواز سے بطورِ تعلیم کرتا ہے، لوگ اس نیت کو سن کر اپنی اپنی نیت کر لیتے ہیں، آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ قرآن و سنت اور فقہ حنفی سے جواب عنایت فرمائیں۔
اگرچہ نیت کی تعلیم دینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بوقتِ ضرورت مذکور طریقہ اپنایا جا سکتا ہے، مگر اسے جنازہ کا حصہ سمجھنا اور نہ بتانے پر معترض ہونا درست نہیں، اس لیے کبھی کبھار اسے ترک بھی کر دیا جائے، تاکہ اسے جنازہ کا رُکن نہ سمجھا جائے۔
ففی فتح الباری: إن المندوبات قد تنقلب مکروھات اذا رفعت عن رتبتھا لان التیامن مستحب فی کل شیء ای من امور العبادات لکن لما خشی ابن مسعود ان یعتقدوا وجوبه اشار الی کراھته اھ (2/338)۔
وفی الدر المختار: (النية) بالإجماع (وهي الإرادة) المرجحة لأحد المتساويين أي إرادة الصلاة لله تعالى على الخلوص (لا) مطلق (العلم) في الأصح، ألا ترى أن من علم الكفر لا يكفر، ولو نواه يكفر (والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب لأنه كلام لا نية إلا إذا عجز عن إحضاره لهموم أصابته فيكفيه اللسان مجتبى (وهو) أي عمل القلب (أن يعلم) عند الإرادة (بداهة) بلا تأمل (أي صلاة يصلي) فلو لم يعلم إلا بتأمل لم يجز.(والتلفظ) عند الإرادة (بها مستحب) هو المختارز(1/ 415)۔