مفتی صاحب امید ہے آپ خیریت سے ہونگے ۔ ایک مقصد کے لیے پیسے اکٹھے کی گئی ہیں، اور وہ مقصد پورا ہو جائے تو کیا وہ پیسے دوسرے مقصد پر خرچ کیے جاسکتے ہیں ؟ جیسا کہ ہم نے سیلاب زدگان کے لیے پیسے اکٹھے کیے ہیں اور اُن پر لگائیں، ابھی بھی الحمدللہ کچھ گھروں کی تعمیر جاری ہے۔ میں جس این جی او کے ساتھ کام کرتا ہوں اس کے تحت ہم مستحق گھروں کو راشن بھی پہنچاتے ہیں۔ اب چونکہ ان علاقوں میں حالات قدرے بہتر ہیں اور یہاں کچھ لوگ ہیں جن کو راشن دینے ہیں۔ تو کیا ان پیسوں کو اب یہاں خرچ کیا جا سکتا ہے؟ راہنمائی کی فرمادیں۔
سائل جس ادارے کے ساتھ کام کر رہا ہے لوگوں نے اگر اس ادارے کو سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے رقم دی ہو تو یہ ان کے پاس سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی امانت ہے لہذا یہ رقم سیلاب متاثرین کی ضروریات میں ہی خرچ کرنالازم ہے ، ان کے علاوہ کسی اور جگہ خرچ کرنا امانت میں خیانت ہے، جو شرعا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما قال الله تعالى: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ و في الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ و في سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ } [التوبة: 60]
وفى الدر المختار: فمصرفه كالغنائم (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة. (ومسكين من لا شيء له) على المذهب اھ (2/ 339)
وفیه أیضا: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) اھ (2/ 344)
و في الفتاوى الهندية: أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى هذا في الشرع كذا في التبيين اھ (1/ 170)
و في الدر المختار: وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل اھ (2/ 269) واللہ اعلم بالصواب
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0