میرا سوال یہ ہے کہ یو نائیٹڈ بینک لمٹیڈ اور اس جیسے دیگر بینک اپنے صارفین کو سرمایہ کاری کی پیشکش کرتے ہیں، صارف جب رقم انویسٹ کرتا ہے، تو بینک اس رقم سے ٹریڈنگ کر کے اس ٹریڈنگ کے نتیجے میں حاصل ہونے والا منافع طے شدہ فیصد کے حساب سے صارف کو دیتا ہے، جیسا کہ اگر صارف نے ایک لاکھ روپیہ انویسٹ کیا تو مطلوبہ بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان کی وضع کردہ پالیسی کے مطابق صارف کو 7 فیصد یا 10 فیصد منافع دے گا، جبکہ صارف کی اصل رقم محفوظ رہے گی،جب تک سٹیٹ بینک کی شرح منافع میں تبدیلی نہیں ہوتی، صارف کو اتنا ہی منافع ملے گا،جیسا کہ ایک سال تک 7 فیصد ملتا رہا جبکہ دوسرے سال پالیسی بدل گئی اب 10 فیصد یا کم مل رہا ہے۔ کیا ایسا منافع حلال ہے چاہے اسلامک بینک سے کیوں نہ ہو؟ اور کیا اس قسم کی انوسٹمنٹس حلال ہیں ؟
واضح ہو کہ سودی بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹ میں اور فکسڈ ڈیپازٹ میں رکھوائی جانے والی رقم فقہی لحاظ سے قرض ہے ،اور قرض پر ہر قسم کا نفع خواہ طے شدہ ہو یا بلاطے شدہ دیا جائے ، شرعاً سود ہے، لہذا مذکور بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹ اور فکسڈ ڈیپازٹ میں رقم رکھوا کر اس پر منافع لینا سود ہونے کی بنیاد پر شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔جبکہ غیرسودی بینکوں کے ان دونوں اکاؤنٹ میں رکھوائی جانے والی رقم فقہی لحاظ سے قرض نہیں، بلکہ مشارکہ اور مضاربہ وغیرہ کی سرمایہ کا ہے ، لہذا جو غیر سودی بینک مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں اپنے تمام مالی معاملات سر انجام دیتا ہو تو اس کے سیونگ اکاؤنٹ اور فکسڈ ڈیپازٹ میں رقم رکھوا کر سالانہ یا ماہانہ منافع لینا درست ہے۔
کما في حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (5/ 166)۔
و في تكملة فتح الملهم عن فضالة بن عبيد موقوفاً (کل قرض جر فهو ربا) و في رواية كل قرض جر منفقة فهو وجه من وجوه الربا وأن هذه الاحاديث تبين علة حرمة الربا، فالحكم یدار عليها، وتكون كل زيادة على القرض ربا، سواء اتضح لنا وجه الظلم فیھا أو لم يتضح اھ (۱/۵۷۵)۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0