سلام! میں آجکل قضاءِعمری پڑھ رہاہوں، کیا میں فجر کے فرض پڑھنے کے بعد کچھ قضاء نمازیں ادا کرسکتا ہوں، اور کیا عصر کےفرض پڑھنے کے بعد بھی کچھ قضاء نماز ادا کرسکتا ہوں؟
جی ہاں! فجر اور عصر کے فرائض کے بعد سائل کے لیے قضاء نمازوں کی ادائیگی درست ہے ، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ طلوع شمس، زوال شمس اور مغرب کی نماز سے کچھ دیر پہلے (جب سورج زردی مائل ہوجاتا ہے) سے لیکر غروب تک قضاء نماز پڑھنا بھی جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي الدر المختار وحاشية ابن عابدين وجميع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثة المنهية، وهي الطلوع والاستواء والغروب - اهـ (662)
وفي الفتاوى الهندية: ثم ليس للقضاء وقت معين بل جميع أوقات العمر وقت له إلا ثلاثة، وقت طلوع الشمس، ووقت الزوال، ووقت الغروب فإنه لا تجوز الصلاة في هذه الأوقات ۔ (121/1)
وفيه أيضاً: تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض. هكذا في النهاية والكفاية فيجوز فيها قضاء الفائتة وصلاة الجنازة وسجدة التلاوة --- ومنها ما بعد صلاة الفجر قبل طلوع ا ما بعد صلاة العصر قبل التغير - اھ (521)