میرا سوال اس حدیث سے متعلق ہے
«الْمَرْأَةُ إِذَا صَلَّتْ خَمْسَهَا وَصَامَتْ شَهْرَهَا وَأَحْصَنَتْ فَرْجَهَا وَأَطَاعَتْ بَعْلَهَا فَلْتَدْخُلْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَتْ» . خاص طور پر ( واحصنت فرجَها )
کیا ان میں وہ بھی شامل ہو سکتی ہے جس کا ماضی کچھ گناہوں میں رہا ہو، لکن اس کی نیت توبہ کی ہو، تھوڑا واضح کر دیں کہ کون سی عورتیں اس میں شامل نہیں؟
کسی عورت کا غیر شرعی کاموں کا ارتکاب کرنا تو جائز نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگی،البتہ اگر کوئی گناہ گار بندہ گناہ کرنے کے بعد توبہ تائب ہوجاتا ہے تو چونکہ احادیث مبارکہ کی رو سے اس کے وہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ ایسا ہوتا ہے گویا اس نے وہ گناہ کئے ہی نہیں،اس لئے اگر کوئی عورت ناجائز اور گناہ کے کاموں میں مبتلا تھی، لیکن شادی کے بعد وہ صدق دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ تائب ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی ذات عالی سے یہی امید ہے کہ وہ بھی سوال میں مذکور حدیث مبارک کی مصداق ہوگی۔