میرا سوال یہ ہے کہ غالب گمان ہے ،میرا تعلق مراثی ذات سے ہے ، ہمارے دادا نے انڈیا سے ہجرت کی، ہم نے جن لوگوں سے رشتہ داری کی ،ان کو بھی یہی بتایا کہ ہماری ذات یہ ہے ،ہمارے ایک چچا کے علاوہ تمام پھوپھیوں کی اور تایا کی شادی بھی ہمارے دادا نے اس ذات میں کی ہم لوگ خود کو باہر معاشرے میں راجپوت بتاتے ہیں، جبکہ پرانے کاغذات دیکھے ،تو ہم لوگ لودھی کہلواتے تھے، اور ہمارے باقی عزیز کوئی شیخ میر، قریشی، ہاشمی کہلواتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہمارا شجرہ نہیں ملتا، اپنی رشتہ داروں کو دیکھ کر غالب گمان ہے کہ ہم مراثی ذات سے ہیں، مگر کبھی بھی کہیں بھی ہم نے اپنے باپ دادا کے نام تبدیل کر کے کہیں نا لکھوائے ،نا بتائے کہ نام احمد تھا، ہم نے علی بتا دیا ایسا کبھی نہیں کیا،یہ یقین ہے کہ راجپوت نہیں ، معاشرے کو دیکھتے ہوئے اتنی ہمت حوصلہ نہیں کہ اعلانیہ طور پر اپنی ذات کا کہہ سکیں ، کیونکہ معاشرے میں بچوں اور بچیوں کو لوگ حقیر الفاظ اور نظروں سے دیکھیں گے،اور ساتھی کولیگ ذلیل و رسوا کریں گے میں نے ایک حدیث دیکھی ہے کہ جس نے اپنی ذات بدلی اس نے کفر کیا ۔
برائے مہربانی کوئی مناسب حل بتائیں جو دین دنیا آخرت کے لحاظ سے مناسب ہو۔
واضح ہو کہ دانستہ طور پر اپنی قوم و خاندان کے علاوہ کسی دوسری قوم و خاندان کی طرف اپنی نسبت کر ناشر عاًنا جائز و حرام ہے، جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا سائل کو جب اپنے آباء واجداد کے ذریعے معلوم ہوا ہے، اور غالب گمان بھی یہی ہے کہ سائل کا تعلق میراثی ذات سے ہے ،تو سائل کے لئے محض معاشرے کے ڈر سے اپنی نسبت راجپوت خاندان کی طرف کرنا شرعاً جائز نہیں ، البتہ معاشرے کی برائی اور شرمندگی سے بچنا مقصود ہو تو میراثی خاندان سے تعلق ہونے کا لوگوں کو علی الاعلان نہ بتایا جائے، کوئی اگر زیادہ پوچھے تو بتادیا جائے کہ خاندان کا شجرہ محفوظ نہیں ہے۔
كما في القرآن الكريم : {يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ } [الحجرات: 13]۔
و في صحيح البخاري: عن أبي ذر رضي الله عنه، أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «ليس من رجل ادعى لغير أبيه - وهو يعلمه - إلا كفر، ومن ادعى قوما ليس له فيهم، فليتبوأ مقعده من النار» اھ (4/ 180)۔