ہدیہ

بڑے بیٹے نے ماں کے ساتھ رہتے ہوئے, ماں کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا

فتوی نمبر :
65137
| تاریخ :
2023-06-07
معاملات / مالی معاوضات / ہدیہ

بڑے بیٹے نے ماں کے ساتھ رہتے ہوئے, ماں کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا

السلام علیکم : جنابِ اعٰلی ہم پانچ بہن بھائی ہیں، دو بھائی اور تین بہنیں ، میں سب سے بڑا ہوں، ہمارے والد نشے کی لت میں پڑ کر ۱۹۸۷ میں ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تھے، میری امی نے کام کر کے ہماری پرورش کی ، اس اثناء میں امی نے ایک پلاٹ خریدا ، ۱۹۹۳ میں میری جاب شروع ہوئی ، اور میں نے امی کو مزید کام نہیں کرنے دیا ، تھوڑا تھوڑا کرکے میں نے اپنا گھر بنایا ، اور تینوں بہنوں کی شادیاں کیں ، اور پورے گھر کی کفالت کی، پھر امی نے وہ گھر بیچ دیا ، اور دوسرے علاقے میں پلاٹ خریدا اپنے نام سےسنہ۲۰۰۰ میں، اس پلاٹ کی مکمل تعمیر میں نے کی ، جس پر امی نے مجھے کہا کہ اس مکان پر صرف تمہارا حق ہے، کیونکہ یہ تم نے بنایا ہے ، اور تم صرف دو بھائی ہو تو آپس میں آدھا آدھا بانٹ لینا ، آج تقریبا ۲۳ سال بعد اچانک امی کہتی ہے کہ یہ صرف میرا گھر ہے، اور میں چاہتی ہوں کہ سب کو شرعی حصہ اپنی زندگی میں دے دوں ، اور مجھے میرا حصہ بھی چاہیئے، جس پر میں نے کہا کہ آپ نے تو پہلے کچھ اور کہا تھا ، اور جو میں نے ساری زندگی سب کو پالنے میں لگادی ، اب جب میرے ۵ بچے ہیں ، جو ابھی چھوٹے ہیں، تو آپ ہم سب کو دربدر کرنا چاہتی ہو ، صرف شریعت کے نام پر ، تو وہ بولی, یہ بڑے بھائی کا فرض ہوتا ہے ،میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ کیا شریعت اس چیز کی اجازت دیتی ہے کہ درجِ بالا عوامل کے حساب سے کسی کی حق تلفی کی جائے، جیسا کہ آج کل کے حالات ہیں، کیا ایک ماں اپنے بچوں کو دربدر کرسکتی ہے ، خصوصاً اس بیٹے کو جس نے ۱۷ سال کی عمر سے گھر کی ذمہ داریوں کو نبھایا ، اور اپنی ماں کے آرام کا خیال رکھا ، آج جب تمام بہنیں اپنے اپنے گھروں میں ہیں، تو کیا میرے ساتھ ایسا ہونا چاہیئے؟ کیا شریعت میں بڑے بھائی کی ذمہ باپ کی ذمہ داریوں کو پوراکرنے کا حکم ہے؟ کیا میں اپنے بہن بھائی کی ۳۰ سال تک کفالت کرنے اور ان سب کے لئے گھر بنانے کا ذمہ دار تھا ؟ اور اسی وجہ سے میں اپنے بچوں کے لئے کوئی اثاثہ نہیں بنا پایا ہوں، برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمائیں کہ شریعت کی روشنی میں میں اپنے حقوق کی کس طرح حفاظت کر سکتا ہوں۔شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے والد کا گھر چھوڑ کر چلے جانے کے بعد عرصہ تیس سال تک سائل کا بہن بھائیوں کی کفالت کرنا ، اور ان کی ضروریات پوری کرنا ، بہت بڑے اجر و ثواب کا کام ہے ،جس پر امید ہے کہ سائل عنداللہ ماجور ہوگا ،چنانچہ سائل کی والدہ کے لئے یہ کہہ کر کہ یہ بڑے بھائی کی ذمہ داری ہوتی ہے ،سائل کے تمام احسانات کو ٹھکرا دینا مناسب نہیں ،بلکہ سائل کے بہن بھائیوں کو سائل کا احسان مند اورشکر گزار رہنا چاہیئے ،البتہ سائل کی والدہ نے اپنے ذاتی پلاٹ کو فروخت کرکے جو دوسرا پلاٹ 2000 میں خریدا تھا ،وہ سائل کی والدہ کی ملکیت تھا ،چنانچہ اس پر مکان تعمیر کرنے کے بعد سائل کی والدہ نے اگر چہ یہ کہہ دیا تھا کہ اس پر تمہارا حق ہے، لیکن اگر سائل کی والدہ نے مذکور پلاٹ باقاعدہ طور پر سائل اور اس کے بھائی کو ہبہ (گفٹ ) کرکے حوالہ نہ کیا ہو، تو محض اس طرح کہہ دینے سے کہ اس پر تمہارا حق ہے ،شرعاً سائل مذکور پلاٹ کا مالک نہیں بنا ،بلکہ وہ پلاٹ بدستور سائل کی والدہ کی ملکیت ہے ،چنانچہ اس میں وہ اپنی مرضی سے جس طرح چاہے تصرف کر سکتی ہے ،جبکہ مذکور پلاٹ پر سائل نے اپنی ذاتی رقم سے جو مکان تعمیر کیا ہے وہ اگر سائل نے والدہ کی اجازت سے اپنے لئے کیا ہو تو وہ شرعاً سائل کی ملکیت شمار ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تنقیح الحامدیۃ : ( سئل ) في رجل بنى بماله لنفسه قصرا في دار أبيه بإذنه ثم مات أبوه عنه و عن و رثة غيره فهل يكون القصر لبانيه و يكون كالمستعير ؟(الجواب) : نعم كما صرح بذلك في حاشية الأشباه من الوقف عند قوله كل من بنى في أرض غيره بأمره فهو لمالكها إلخ و مسألة العمارة كثيرة ذكرها في الفصول العمادية و الفصولين و غيرها و عبارة المحشي بعد قوله و يكون كالمستعير فيكلف قلعه متى شاء.(81/2)۔
و فی الدر المختار : ( و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل ( و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها اھ(5/690)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 65137کی تصدیق کریں
1     621
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی کو ہدیہ یا گفٹ کرنے کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ہدیہ 1
  • کیا کسی ہندو کا تحفہ قبول کیا جاسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ہدیہ 0
  • کوئی چیز ہبہ کر کے واپس لینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • طلاق کے بعد شوہر کونسے گفٹ واپس لے سکتاہے؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • قبضہ دیے بغیر , فقط کاغذات میں مکان نام کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا کسی ایک بیٹے کو ہدیہ دینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 3
  • بیٹے کو ہبہ کردہ مکان میں بیٹیوں کے حصہ کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • ماں کے لئے اپنی اولاد میں سے کسی ایک بیٹے کو گھر ہدیہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • انٹرسٹ فری پراویڈنٹ فنڈ میں ملنےوالی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اپنی اولاد کے درمیان زندگی میں تقسیمِ جائیداد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا بیٹوں کو گھر ہدیہ کرنے کے بعد بیٹیوں کا اس میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم اور طریقۂ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • باپ کے لئے تمام اولاد کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • کیا زندگی میں اپنے بہن بھائیوں اور ان کی اولاد میں جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • والد مرحوم کی جانب سے زندگی میں دی جانے والی چیز میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بڑے بیٹے نے ماں کے ساتھ رہتے ہوئے, ماں کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • بیوی کے لیے شوہر کو ہدیہ کئے ہوئے سونے کا استعمال جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • قادیانی کمپنی کی تشہیری مہم میں شریک ہو کر گرانٹ وصول کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بہن کے لئے بھائی سے والد کی طرف سے دی گئی جائیداد میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • مکان کی رقم اولاد کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • نکاح میں بیوی کو شوہر کی جانب سے دیے گئے تحفوں کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیمِ جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات