کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلے کے متعلق کہ میرے پانچ بچے ہیں،جن میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں،میری ملکیت میں ایک مکان ہے،میں اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کو اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں،لہذا شرعی اعتبار سے میری رہنمائی فرمائیں کہ ان میں سے ہر ایک کا کتنا حصہ ہے؟
واضح ہوکہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنی تمام جائیداد ومال کا تنہا مالک ہوتا ہے،وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتا ہے،اس پر زندگی میں اپنا مال وجائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں،لہذا سائل کے ذمہ بھی شرعاً اپنا مال وجائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنالازم اور ضروری نہیں،البتہ اگر سائل اپنی صحت والی زندگی میں بلا کسی جبر واکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال وجائیداد وغیرہ ورثاء میں تقسیم کرنا چاہتا ہےتو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے،مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتا ہے،جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائل ایک محتاط اندازے کے موافق اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہےوہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد (بیٹے،بیٹیوں)کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے تاکہ یہ ہبہ شرعاً بھی تام اور درست ہوسکے،محض کاغذات میں نام کردینا کافی نہیں ہے،پھر بہتر یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاءمیں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہے،کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے،تاہم اگر وہ اولاد میں سے کسی کی خدمت گزاری،محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی بنا ء پر اسے دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے مگر بلا وجہ شرعی کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے۔
کما فی رد المحتار: فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى الخ (ج4 ص 444 کتاب الوقف ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية الخ (ج4 ص 391 کتاب الھبۃ ط: ماجدیہ)۔