میری دادی کا ایک گھر اور ایک دکان ہے، اور دادی زندہ ہیں، اور اُنکے بیٹے یعنی میرے والد صاحب ایک کروڑکا مقروض ہے، اور میرے بابا کے پاس کچھ نہیں، لوگ تماشہ کر رہے، دھکمیاں دے رہے، F.I.R کٹوا رہے ہیں، میری دادی کے میرےباپ کی حالت دیکھ کر اُنکو اپنا ایک گھر دے دیا کہ اس کو بنا، ایک فلو رمجھےدو جس میں میں رہ سکوں، اور باقی تم جتنا بنانا چاہو بنا کے قرضہ اُتارو، اور میری دادی کی 6 بیٹیاں اور 6 بیٹے ہیں، سب کے مالی حالات بھی ٹھیک ہیں ،بس ایک بیٹی کے خراب ہیں تھوڑے، مگر میرے بابا کے بہت حالات خراب ہیں، کیا دادی کا میرے باپ کو گھر دینا جائز ہے یا نہیں ؟ پلیز وضاحت کریں!
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنی جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح جائز تصرف کرنا چاہے، کر سکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں، اور نہ ہی کسی بیٹے، بیٹی کے لئے اس میں حصہ داری کا دعوی کرنا درست ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی دادی کے ذمہ بھی اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرناشر عاً لازم نہیں، اور نہ ہی سائل کی دادی کے بیٹوں، بیٹیوں میں سے کسی کو جائیداد میں سے حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے، البتہ سائل کی دادی اگر اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مذکور مکان سوائے ایک فلور کے سائل کے والد کو اُنکے قرضوں کی وجہ سے دینا چاہے تو اُنکو مکمل اختیار حاصل ہے، لہذا سائل کی دادی سائل کے والد کو اگر اس مکان پرباقاعدہ مالکانہ قبضہ و تصرف دے دے، تو شرعاً سائل کا والدمذکور مکان کا مالک بن جائے گا، اور شرعاً یہ ہبہ اور گفٹ کہلائے گا، اس کی وجہ سے وہ اپنی والدہ کی میراث سے محروم نہ ہوں گے۔
کما في درر الحكام : للإنسان أن يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء و ليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره۔اھ (1/559)۔
و فیه ایضاً : (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔اھ (5/ 690)۔